ٹرمپ انتظامیہ کا چین کو اسلحہ فروخت کرنےکا کوئی منصوبہ نہیں ہے،امریکی حکام

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)امریکی حکام نے واضح کیا ہےکہ امریکا کا چین کو اسلحہ فروخت کرنےکا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تردیدی بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکا کے چین میں سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کو امریکی اسلحہ فروخت کرنےکا معاہدہ کرنےکی پیشکش کی تھی۔
ایک امریکی عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا چین کو اسلحہ فروخت کرنےکا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ایک دوسرے امریکی عہدیدار نےکہا کہ چین کو اسلحے کی فروخت پہلے ہی قانوناً ممنوع ہے اور چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا نہ کوئی منصوبہ بنایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی پیشکش کی گئی ہے۔
خیال رہےکہ امریکا کے چین میں سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے اتوار کو نشر ہونے والے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت پر چین کے تحفظات کے جواب میں چین کو اسلحہ فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ڈیوڈ پرڈیو کے مطابق گزشتہ ہفتے چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ امریکا کے دوران بھی یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث آیا تھا۔
امریکی سفیرکا کہنا تھا کہ ٹرمپ مسلسل کہتے ہیں کہ ہم دنیا بھر میں اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے بھی پوچھا تھا کہ کیا وہ امریکی اسلحہ خریدنا چاہیں گے۔
انٹرویو میں ڈیوڈ پرڈیو نے یہ بھی دعویٰ کیا ٹرمپ اور شی جنگ پنگ جب بھی ملاقات کرتے ہیں تو اس موضوع پر گفتگو ہوتی ہے
چین میں امریکا کے سفیر پرڈیو نے اس مبینہ پیشکش کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں، جب کہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمانوں نے بھی اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران یہ پیشکش کی تھی یا اس سے پہلے ہونے والی کسی ملاقات میں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق شی جن پنگ نے اپنے دورہ امریکا کے دوران ایک بار پھر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے میں احتیاط سے کام لیں۔ انہوں نےامریکا سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ تائیوان کی آزادی کی واضح طور پر مخالفت کرے۔



