امریکا ایران جنگ بندی کے لیے بڑا سفارتی دباؤ، تہران سے جوہری رعایت مانگ لی گئی

انقرہ (جانو ڈاٹ پی کے)امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے ثالثوں نے ایران پر جوہری پروگرام کے معاملے میں رعایت دینے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ کوشش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور جوہری مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرنے کی بات کی گئی تھی۔

ثالثوں کے مطابق تہران سے جوہری پروگرام پر پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش ایک مشکل اور محدود امکان رکھنے والی سفارتی کوشش ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اب تک ایسے واضح اشارے نہیں ملے کہ وہ اس معاملے پر فوری طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق عرب ثالثوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد ایران نے کوئی نئی رعایت نہیں دی، جبکہ خلیجی حکام کے مطابق تہران مذاکرات میں پیش رفت سے قبل واشنگٹن کی جانب سے بھی رعایت چاہتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تاہم کہا ہے کہ تہران سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں ایران جنگ کا جواب دینے کے لیے بھی تیار ہے۔ قطر بھی امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم تہران دباؤ یا دھمکیوں کو قبول نہیں کرے گا۔

یوں جنگ بندی کی بحالی کی سفارتی کوششوں میں آبنائے ہرمز کے مستقبل، امریکی پابندیوں اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم نکات بن گئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button