پاکستانی خواتین میں دل کے مرض سے اموات کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان میں خواتین میں دل کے مرض سے اموات کی شرح جنوبی ایشیا کے پانچ ممالک میں سب سے زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر صحت بخش خوراک خواتین میں امراض قلب کے خطرات بڑھا رہے ہیں۔
عالمی یوم قلب کے موقع پر کراچی پریس کلب میں فارما ایوو کی جانب سے ’’Her Heart Matters‘‘ مہم کا آغاز کیا گیا۔ مہم پاکستان کارڈیک سوسائٹی، سوسائٹی آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹس آف پاکستان، پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن اور Go Red for Women کے تعاون سے شروع کی گئی، جس کا مقصد خواتین میں دل کے امراض کی بروقت تشخیص، اسکریننگ اور علاج سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ خواتین میں امراض قلب کو اب بھی اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، جبکہ حمل، زچگی اور سنِ یاس کے دوران خواتین کی قلبی صحت پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر سامنے آنے کے باوجود بعض خواتین زچگی کے بعد طبی فالو اپ نہیں کراتیں اور بعض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات بھی ترک کردیتی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر طٰحہین عباس نے کہا کہ حمل کے دوران اور زچگی کے بعد خواتین کی باقاعدہ طبی نگرانی ضروری ہے، جبکہ حمل میں وقفہ، مناسب خاندانی منصوبہ بندی اور مسلسل فالو اپ خواتین کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے خواتین کو باقاعدہ ورزش کرنے اور تلی ہوئی اشیا، بیکری مصنوعات، سافٹ ڈرنکس اور میٹھے مشروبات کے استعمال میں کمی کی ہدایت کی۔
پروفیسر ڈاکٹر حلیمہ یاسمین نے بتایا کہ ان کی کلینیکل سروس میں اسکریننگ کے دوران تقریباً 4 فیصد حاملہ خواتین میں دل کے امراض کی تشخیص ہوئی۔ ان کے مطابق حمل خواتین میں ہائی بلڈ پریشر اور پہلے سے موجود مگر تشخیص نہ ہونے والے دل کے مرض کی نشاندہی کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شبنم نوید نے کہا کہ جے پی ایم سی کی ذیابیطس کلینک میں آنے والی 90 فیصد سے زائد خواتین میں قلبی امراض کے خطرات موجود تھے۔ ان کے مطابق ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپا خواتین میں امراض قلب کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر فواد فاروق نے کہا کہ ذہنی دباؤ بھی امراض قلب میں اضافے کا اہم سبب ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بنیادی اور ثانوی سطح پر مؤثر قلبی نگہداشت کا نظام نہ ہونے کے باعث خصوصی امراض قلب کے اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ بعض مریض انجیو پلاسٹی کے چند ہفتوں بعد ہی ادویات چھوڑ دیتے ہیں، جس سے دوبارہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق 2026 میں ایشیا جے اے سی سی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق 2021 میں پاکستان میں خواتین میں اسکیمک ہارٹ ڈیزیز سے عمر کے لحاظ سے معیاری اموات کی شرح ان پانچ ممالک میں سب سے زیادہ تھی۔



