بدین:عوامی تحریک کی محبت سندھ ریلی،سندھ کی تقسیم اور جلالپور کینال منصوبے کیخلاف احتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ / پی کے)سندھ کی تقسیم، جلالپور کینال سمیت دیگر مبینہ سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کی قیادت میں ٹنڈو غلام علی میں محبت سندھ ریلی نکالی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ریلی چمبڑ ناکہ سے شروع ہو کر میر جو بنگلو تک پہنچی ریلی میں قومی عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری مظہر راہوجو، ضلع بدین کے رہنما گیان چند مہیشوری، سندھیاڻي تحریک کی مرکزی آرگنائزر شازیہ احمدانی، نصرت خاصخیلی، زینت سموں شہربانو راہوجو، قومی عوامی تحریک کے رہنماؤں نثار بھرگڑی، الطاف خاصخیلی، شوکت تنیا، مقصود بھرگڑی، بابو نوحانی، شوکت نوحانی، رزاق بوزدار، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر کرڑ ریباری، عبداللہ چانڈیو، سندھی شاگرد تحریک کے رہنماؤں نعیم شر، اشفاق اشرف پلیجو سمیت تاجروں اور شہریوں نے شرکت کی
حاجی سانول، ٹنڈو غلام علی اور نیو دمبالو پہنچنے پر ایاز لطیف پلیجو کا پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے شاندار استقبال کیا گیا۔ نیو دمبالو میں کامریڈ بچل احمدانی کے چہلم کے موقع پر محبت سندھ جلسہ عام بھی منعقد کیا گیا جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ نے پاکستان بنایا ہے، اسے دیوار سے نہ لگایا جائے۔ ان کے بقول عالمی سامراجی قوتوں نے ملک کے خلاف سازشوں کے لیے سندھ کو ہدف بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باشعور اردو بولنے والے عوام سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش اور نفرت کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں انہوں نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ایم کیو ایم اور محسن نقوی کی جانب سے شروع کیا گیا ہے، تاہم ان کے بقول یہ نہ مہاجروں کے مفاد میں ہے اور نہ پاکستان کے مفاد میں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سندھ کے عوام سے دشمنی نہیں بلکہ پاکستان کے مفادات کے بھی خلاف ہے
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ اسلام آباد سے کراچی تک جو بھی لوگ اس معاملے پر فیصلے کر رہے ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ سندھ کسی سے تحفے میں نہیں ملی اور نہ ہی کسی سے چھینی گئی ہے، بلکہ یہ ہزاروں سال سے سندھی عوام کا تاریخی وطن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی سرزمین کا ایک گاؤں بھی کسی کو دینے کے لیے تیار نہیں انہوں نے کہا کہ سندھ اور پاکستان سب کے ہیں اور ملک کے تمام عوام کے دکھ، درد اور مشکلات مشترکہ ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پاکستان کو نئے تجربات کی تجربہ گاہ نہ بنایا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے ملک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو ایاز لطیف پلیجو نے 1971 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی فیصلوں اور رویوں کے سنگین نتائج سامنے آچکے ہیں، اس لیے عوام کو عوام سے لڑانے اور صوبائی و لسانی اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر عوام کو آپس میں لڑانے کے لیے بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے تجربات اور سیاسی بیان بازی کے بجائے عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے تمام وسائل پر سندھ کے عوام کا حق ہے اور سندھ کے وسائل، زمین، پانی اور ساحلی علاقوں سے متعلق فیصلوں میں مقامی آبادی کے مفادات، آئینی و صوبائی اختیارات کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ حکمران طاقت کے نشے میں ملک کو بحران اور افراتفری کی جانب لے جا رہے ہیں، جبکہ مہنگائی، بھوک، بدحالی، بے روزگاری، بدامنی اور کرپشن کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام مزید مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران اپنے شاہانہ اخراجات کم کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام پانی، بجلی، امن و امان، صحت، تعلیم اور روزگار سمیت سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو صاف پانی، سیوریج، صفائی، صحت، تعلیم اور میرٹ کی فراہمی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے ہاری اور مزدور بدحالی اور غربت کا شکار ہیں۔



