بھارت میں سرخ چیونٹیوں سے بننے والی منفرد چٹنی کا چرچا

اڑیسہ(جانوڈاٹ پی کے)بھارت کی ریاست اڑیسہ میں کھانے پینے کی ایک ایسی روایت بھی موجود ہے جس میں سرخ بنکر چیونٹیوں اور ان کے بچوں کو ایک خاص چٹنی کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تیز اور کھٹے ذائقے والی یہ چٹنی مقامی قبائلی برادریوں کی خوراک کا حصہ ہے اور اسے کئی نسلوں سے تیار کیا جارہا ہے۔
مقامی طور پر استعمال ہونے والی سرخ بنکر چیونٹیاں درختوں کے پتوں کو آپس میں جوڑ کر اپنے گھونسلے بناتی ہیں۔ ان کے گھونسلے عموماً صبح کے وقت درختوں سے جمع کیے جاتے ہیں، تاہم اس کام میں احتیاط ضروری ہوتی ہے کیونکہ گھونسلے میں خلل پڑنے پر چیونٹیاں حملہ کرکے کاٹ سکتی ہیں۔
گھونسلے حاصل کرنے کے بعد چیونٹیوں اور ان کے بچوں کو الگ کرکے صاف کیا جاتا ہے اور پھر خشک کیا جاتا ہے۔ بعض مقامی افراد انہیں براہ راست فروخت بھی کرتے ہیں، جس سے ان خاندانوں کو اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے جو اس روایتی سرگرمی سے وابستہ ہیں۔
اس مخصوص چٹنی کی تیاری کے لیے صاف کی گئی سرخ چیونٹیوں کو نمک، لہسن، ادرک اور مرچ کے ساتھ پیسا جاتا ہے۔ کچھ علاقوں میں ذائقے کو مزید بہتر بنانے کے لیے پودینہ بھی شامل کیا جاتا ہے۔ روایتی طور پر یہ آمیزہ پتھر کی سل پر تیار کیا جاتا ہے، جس سے چٹنی کا ذائقہ اور ساخت دونوں منفرد ہوجاتے ہیں۔
تیار ہونے والی چٹنی کا ذائقہ عام چٹنیوں سے خاصا مختلف ہوتا ہے۔ اس میں کھٹاس کے ساتھ تیزی بھی محسوس ہوتی ہے اور اسے مقامی کھانوں کے علاوہ چاول اور باجرے سے تیار کردہ غذاؤں کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اڑیسہ میں تیار ہونے والی ’سملی پال کائی چٹنی‘ کو اس کی منفرد مقامی شناخت کے باعث جغرافیائی شناخت یعنی جی آئی رجسٹریشن بھی حاصل ہے۔ اس کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ 2 جنوری 2024 کو جاری کیا گیا تھا۔
سرخ چیونٹیوں سے تیار ہونے والی چٹنی صرف اڑیسہ تک محدود نہیں۔ بھارت کی دوسری ریاستوں، خصوصاً چھتیس گڑھ میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم وہاں اس کی تیاری کا طریقہ اور ذائقہ مقامی روایات کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔



