سوشل میڈیا کی جعلی خبریں کیسے پکڑی جائیں؟ پاکستانی محقق نے سائنسی طریقہ بتا دیا

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)پنجاب یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد نے جرمنی کی بیلیفیلڈ یونیورسٹی میں جعلی خبروں اور گمراہ کن مواد کی سائنسی شناخت کے موضوع پر خصوصی تربیتی ورکشاپ منعقد کی، جس میں سوشل میڈیا پر مائیگریشن سے متعلق جعلی خبروں کے پھیلاؤ اور ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

ورکشاپ بیلیفیلڈ یونیورسٹی کی دعوت پر منعقد ہوئی، جس میں یونیورسٹی کے ڈاکٹر اکثکل، ریسرچ اسسٹنٹس جبکہ انڈر گریجویٹ اور ماسٹرز پروگرامز کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

ڈاکٹر خرم شہزاد نے ورکشاپ کے دوران جعلی خبروں اور پراپیگنڈہ مواد کی شناخت کے لیے اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کی بنیاد پر تیار کیے گئے سائنسی طریقہ کار سے شرکا کو آگاہ کیا۔ ان کی تحقیق میں ایسے مواد کی شناخت کے لیے 11 سائنسی اشاریوں پر مبنی ایک ماڈل وضع کیا گیا ہے۔ورکشاپ میں جرمنی میں مائیگریشن سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں کو بطور کیس اسٹڈی پیش کیا گیا۔ شرکا کو ایسے مواد کی جانچ پڑتال اور اس کی صداقت کا جائزہ لینے کے عملی طریقوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر اکثکل نے کہا کہ غلط اور غیرمصدقہ معلومات مائیگریشن سے متعلق عوامی رائے اور پالیسی مباحث کو متاثر کرسکتی ہیں، جبکہ گمراہ کن معلومات معاشرے میں غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پراپیگنڈہ اور گمراہ کن مواد کی شناخت کے لیے عام افراد اور طلبہ میں تنقیدی اور تجزیاتی صلاحیت پیدا کرنا سماجی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ورکشاپ کے دوران شرکا نے جعلی خبروں کی شناخت کے سائنسی طریقہ کار، سوشل میڈیا مواد کے تجزیے اور مائیگریشن سے متعلق معلومات کی جانچ کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی۔

مزید خبریں

Back to top button