صدیوں پرانی جیل بن گئی لگژری ہوٹل، جاپان میں منفرد تجربہ

ٹوکیو(جانو ڈاٹ پی کے)جیل کا نام سنتے ہی عموماً تنگ و تاریک کمروں، سلاخوں اور قیدیوں کا تصور ذہن میں آتا ہے، لیکن جاپان میں ایک صدی سے زائد پرانی تاریخی جیل کو منفرد انداز میں لگژری ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
جاپانی کمپنی نے نارا شہر کی تاریخی جیل کی سات سال تک تزئین و آرائش کے بعد اسے ہوشینو نارا پریزن ہوٹل کے نام سے جون 2026 میں دوبارہ کھول دیا۔
نارا جیل 1908 میں تعمیر کی گئی تھی اور 2017 میں اسے ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا۔ تقریباً 25 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس تاریخی عمارت میں اب لگژری ہوٹل کے ساتھ ایک میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے۔
تاریخی جیل کی عمارت ستارے کی شکل میں ڈیزائن کی گئی ہے، جس کے پانچ ونگز ایک مرکزی کمانڈ پوسٹ کے گرد بنائے گئے ہیں۔ تزئین و آرائش کے دوران عمارت کی بیشتر اصل تعمیراتی خصوصیات کو محفوظ رکھا گیا، جبکہ سابقہ سلاخوں والے کمروں کو ملا کر جدید اور پرتعیش رہائش گاہوں میں تبدیل کیا گیا۔
ہوٹل میں تین اقسام کے کمرے دستیاب ہیں۔ ان میں سب سے بڑا کمرہ سابقہ 11 حوالاتی کمروں کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ ایک رات کا کرایہ تقریباً 245 ڈالر سے شروع ہوتا ہے، تاہم سیاحتی سیزن کے دوران قیمتوں میں فرق ہوسکتا ہے۔
ہوٹل کے ہالز میں لکڑی کے سبز دروازوں سمیت کئی تاریخی تفصیلات آج بھی برقرار ہیں، جبکہ کمروں کے نمبر بھی سابقہ جیل کے نمبروں کے مطابق رکھے گئے ہیں، جس سے مہمانوں کو عمارت کی ماضی کی شناخت کا احساس ہوتا ہے۔
ہوشینو نارا پریزن جاپان کی ان تاریخی جیلوں میں شامل ہے جو مغربی طرز تعمیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھیں۔ ماضی میں یہاں ایک وقت میں 16 سے 26 قیدی رکھے جاتے تھے، جبکہ جیل کی تعمیر میں قیدیوں نے بھی حصہ لیا تھا۔ عمارت کے ڈیزائن میں رومن طرز تعمیر کو نمایاں اہمیت دی گئی تھی۔
تاریخی عمارت کو جدید ہوٹل میں تبدیل کرتے ہوئے سب سے بڑا چیلنج اس کی اصل تعمیراتی خصوصیات کو محفوظ رکھنا تھا۔ تزئین نو کے بعد یہ مقام اب بین الاقوامی سیاحوں کے لیے تاریخ، فنِ تعمیر اور جدید آسائشوں کا منفرد امتزاج بن چکا ہے۔



