خیبر پختونخوا کو پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہو رہی ہے؟ وزیراعلیٰ کا بڑا سوال

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ سادہ لباس افراد صوبے کی بیوروکریسی، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، جبکہ حکومت اور کارکنوں کی شنوائی نہ ہونے پر پرامن احتجاج کرنا ان کا آئینی و قانونی حق ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین چار روز سے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ان کے کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملے اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ کوشش ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ لباس افراد پہنچے، جبکہ ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع میں بھی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مبینہ طور پر ایسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید دعویٰ کیا کہ مردان میں ایم این اے فضل خان کو اغوا کیا گیا، جبکہ فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ کے ارکان اور منتخب نمائندے بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔
وزیراعلیٰ نے بعض وفاقی سیاسی رہنماؤں کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کو باقی ملک سے الگ تھلگ کرنے کی کوئی بھی کوشش قابلِ تشویش ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے لیے راستے بند کیے جاتے ہیں جبکہ ملک کے دیگر حصے کھلے رہیں تو اس اقدام کا کیا مطلب لیا جائے؟ سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی سازش ہو رہی ہے اور کیا مشرقی پاکستان جیسے سانحے کو دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو تقسیم کرنے یا خیبر پختونخوا کو ملک سے جدا کرنے کی کوشش کرے گا، اسے واضح پیغام ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام پاکستانی تھے، پاکستانی ہیں اور پاکستانی رہیں گے۔
سہیل آفریدی نے بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی حکومت ان سے کوئی غیرقانونی کام نہیں کروا رہی تو وہ کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات نہ مانیں۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے اور جب کہیں شنوائی نہ ہو اور مؤقف نہ سنا جائے تو آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا حکومت اپنا احتجاج ہر صورت کرے گی۔



