آسٹریلیا میں آبادی کا بڑا بحران، 2060 کی دہائی میں اموات پیدائش سے بڑھنے کا امکان

سڈنی (جانو ڈاٹ پی کے) آسٹریلیا میں آنے والی دہائیوں کے دوران آبادی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا خدشہ ظاہر کردیا گیا، سرکاری انٹرجریشنل رپورٹ 2026 کے مطابق 2060 کی دہائی سے ملک میں اموات کی تعداد پیدائش سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم ہوتی شرحِ پیدائش اور تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی اس ممکنہ تبدیلی کی بنیادی وجوہات ہوں گی۔ آسٹریلیا کی طویل مدتی سرکاری پیش گوئی میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کا منظرنامہ سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی شرحِ پیدائش 2065-66 تک کم ہو کر تقریباً 1.34 بچے فی خاتون رہنے کی توقع ہے، جو آبادی کے قدرتی اضافے پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
آسٹریلیا میں 85 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد بھی 2065-66 تک تقریباً تین گنا ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عمر رسیدہ آبادی میں اضافے کے نتیجے میں صحت کے نظام، بزرگوں کی نگہداشت اور افرادی قوت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ امیگریشن مستقبل میں بھی آسٹریلیا کی آبادی بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ رہے گی، تاہم امیگریشن کو نکال دیا جائے تو پیدائش کے مقابلے میں زیادہ اموات کے باعث ملک کو قدرتی آبادی میں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک ایک سال کے دوران آسٹریلیا میں تقریباً 2 لاکھ 92 ہزار 500 پیدائشیں اور 1 لاکھ 91 ہزار 900 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
رپورٹ میں طویل مدت میں کم شرحِ پیدائش اور عمر رسیدہ آبادی کے امتزاج کو آسٹریلیا کے مستقبل کے لیے ایک اہم آبادیاتی چیلنج قرار دیا گیا ہے۔



