حوثیوں کا سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اورتوانائی کے مراکز پر بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا اعتراف

صنعا(جانوڈاٹ پی کے)یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اسٹریٹجک توانائی کے مراکز پر بڑے پیمانے پر بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فورسز کے ترجمان یحییٰ سریع نے انٹرنیٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ریاض میں حساس مقامات اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع (Yanbu) کے علاقے میں سعودی سرکاری تیل کمپنی ‘آرامکو’ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
یحییٰ سریع کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یمن پر کیے گئے 300 سے زائد فضائی حملوں کا منہ توڑ جواب ہے۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے چند روز قبل ایک سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب آرامکو کمپنی کے آئل ڈپو سے سیاہ دھوئیں کے گہرے بادل اور آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے، جس کی ویڈیو فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ (FlightRadar24) کے مطابق، ان دھماکوں اور فضائی الرٹ کے بعد کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے موقع پر فائر فائٹرز کو آرامکو کے تباہ شدہ فیول ٹینک کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔
ریاض کے ایک 27 سالہ رہائشی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا میں نے آدھی رات کو الرٹ کی آواز سنی اور پھر زوردار دھماکوں سے میرے گھر کی کھڑکیاں ہٹ گئیں۔ یہ منظر انتہائی خوفناک تھا جس کی ہمیں بالکل امید نہیں تھی۔
جنگی ذرائع کے مطابق، ہفتے کے روز حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ سرکاری فوج کے درمیان زمینی جھڑپوں میں مزید 48 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 31 حوثی اور 17 سرکاری اہلکار شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے (IOM) کے مطابق حالیہ دنوں میں لڑائی میں شدت کے باعث نقل مکانی کرنے والے یمنی شہریوں کی تعداد 1 لاکھ 4 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب اپنی تیل کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کے راستے پر انحصار کر رہا تھا۔
تاہم حوثیوں کی جانب سے موخا بندرگاہ اور جزیرہ ہرمز کے تجارتی راستوں پر کنٹرول کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
نامور سرمایہ کاری بینک ‘جے پی مورگن’ نے سرمایہ کاروں کو جاری کردہ نوٹ میں کہا ہے کہ موجودہ جنگی حالات کے باعث عالمی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگانا فی الحال ناممکن ہو چکا ہے۔
سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے اور نقصان کی تفصیلات پر تاحال کوئی باقاعدہ سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔



