چاند پر نیا اور غیر معمولی بڑا گڑھا دریافت، سائنسدان بھی حیران

نیویارک (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے چاند کی سطح پر حالیہ برسوں میں بننے والا ایک غیر معمولی طور پر بڑا گڑھا دریافت کرلیا، جسے اب تک دریافت ہونے والے نئے قمری گڑھوں میں سب سے بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ناسا کے سائنسدان رابرٹ ویگنر نے چاند کے نقشے کی معمول کی جانچ کے دوران ڈیٹا میں ایک غیر معمولی روشن مقام دیکھا، جس کے گرد تاریک ہالہ موجود تھا۔
ناسا کے مطابق ڈیٹا کے مزید تجزیے سے معلوم ہوا کہ چاند کی سطح کے اس حصے میں ایک نیا خلل پیدا ہوا ہے۔ سائنسدانوں نے چاند کی سطح کی تبدیلی سے پہلے اور بعد کی تصاویر کا تقابلی جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں نئے گڑھے کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق یہ گڑھا 11 اپریل اور 22 مئی 2024 کے درمیان چاند کے مشرقی کنارے پر بنا، جس کا نام McGetchin رکھا گیا ہے۔ اس کا نام ایک سائنسدان کی نسبت سے رکھا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گڑھے کی چوڑائی تقریباً 728 فٹ ہے، جو رقبے کے اعتبار سے تقریباً دو فٹبال گراؤنڈز کے برابر بنتی ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اس حجم کا اثر چاند کی سطح پر تقریباً ایک صدی یا اس سے بھی زیادہ عرصے میں ایک بار رونما ہوسکتا ہے۔
ناسا کا Lunar Reconnaissance Orbiter 17 سال سے زائد عرصے سے چاند کے گرد مدار میں موجود ہے، جہاں اس کے آلات چاند کی سطح، ٹپوگرافی، ساخت، درجہ حرارت اور تابکاری کے ماحول کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں۔



