میڈیکل طلبہ کیلئے بڑی خبر،لاہور ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کا فیس اضافے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے) میڈیکل کالجز کی فیسوں میں اضافے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے فیسوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن کو معطل کردیا۔

جسٹس خالد اسحاق نے سینٹرل پارک میڈیکل کالج کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کالج کی جانب سے ایڈووکیٹ رمضان ڈھڈی نے دلائل دیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کالج نے داخلے کے وقت طلبہ سے 21 لاکھ روپے فیس وصول کی، جبکہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے سالانہ فیس میں پانچ فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اس کے علاوہ طلبہ سے کنزیومر پرائس انڈیکس کی مد میں وصولی کا بھی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ پی ایم ڈی سی کو فیسوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں، جبکہ فیسوں سے متعلق قانونی تبدیلیاں پارلیمنٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہیں۔

عدالت نے فیسوں میں اضافے سے متعلق پی ایم ڈی سی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

دوسری جانب ڈینٹل طلبہ کے لیے بھی اہم پیش رفت

پی ایم ڈی سی نے پانچ سالہ بی ڈی ایس پروگرام سے متعلق نوٹیفکیشن کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق طلبہ کی ڈگری چار سال میں مکمل ہوگی، تاہم اس کے بعد ایک سالہ کلرک شپ لازمی ہوگی۔

اس فیصلے کے تحت طلبہ کو اضافی ایک سال کی تعلیمی فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی، جبکہ کلرک شپ کے دوران معاوضے کا معاملہ متعلقہ ادارے کی پالیسی پر منحصر ہوگا۔

پی ایم ڈی سی کی ویب سائٹ پر ٹیوشن فیس سے متعلق 2026 کے نوٹیفکیشنز بھی درج ہیں۔

یوں میڈیکل فیسوں میں اضافے اور بی ڈی ایس پروگرام کے ڈھانچے سے متعلق حالیہ فیصلوں نے ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کے لیے اہم قانونی و تعلیمی پیش رفت کو جنم دیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button