برکس اجلاس میں آفیشل ڈنر’’ویجیٹرین فوڈ‘‘رکھنے پر مودی سرکار کو تنقید کا سامنا

نئی دہلی(جانوڈاٹ پی کے)نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے آفیشل ڈنر کو  ویجیٹیرین فوڈ (سبزیوں سے بنے کھانے) تک محدود رکھنے پر مودی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

روسی صدر پیوٹن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ڈنر کے 10کھانوں میں مودی حکومت نے کوئی کھانا ایسا نہیں رکھا جو گوشت، مچھلی یا انڈے سے بنا ہو۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق مودی حکومت پر ویج فوڈ  زبردستی کھلانے کا الزام لگ رہا ہے۔

اپوزیشن نے اس حرکت کو مودی کی کوتاہ نظری کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بھارت کی 80 فیصد آبادی گوشت خور ہے اور بھارت کا نان ویج بہت لذیذ ہے۔

کانگریس رہنما وارث پٹھان نےکہا کہ مودی جی ویجیٹیرین کھانےکو پروموٹ ضرور کریں، لیکن بھارتی فوڈ کلچرکو ویجیٹیرین کھانوں تک محدود نہ کریں۔

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رائے جیجو نے جواب میں کہا کہ اب کانگریس فوڈ مینو پر بھی سیاست کر رہی ہے۔

برطانوی اخبار نے لکھاکہ  بھارت میں کھانوں کا معاملہ ذات اور مذہب کا معاملہ بھی ہے، ویجیٹیرین فوڈ ہندو برہمنوں کی چوائس ہے، مودی حکومت چاہتی ہے کہ ویجیٹیرین فوڈ ہی نیشنل فوڈ قرار پائے اور  انڈے، گوشت اور مچھلی والے نان ویج فوڈ جو مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کے مرغوب کھانے ہیں، وہ سائیڈ لائن پر رہیں۔

اخبار کے مطابق بی جے پی اکثریتی صوبوں میں ہندو مذہبی تقریبات کے قریب گوشت کی فروخت، ذبیح خانوں پر بھی  پابندی لگادی جاتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button