امریکا اور حوثیوں کے درمیان عمان میں خفیہ ملاقات، اہم یقین دہانیاں سامنے آگئیں

مسقط(جانو ڈاٹ پی کے) امریکی حکام اور یمن کے حوثی گروپ کے نمائندوں کے درمیان گزشتہ ہفتے کے اختتام پر عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایک غیر اعلانیہ ملاقات ہوئی ہے، جس میں بحیرۂ احمر میں کشیدگی اور جنگ بندی سمیت اہم معاملات پر بات چیت کی گئی۔

رائٹرز کے مطابق ملاقات سے واقف5ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذاکرات امریکی سفارتخانے میں ہوئے جبکہ دو ذرائع نے کہا کہ عمانی حکومت نے فریقین کے درمیان براہِ راست بات چیت کے انتظام میں کردار ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ واشنگٹن کے ساتھ مئی 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایک یمنی ذریعے نے بتایا کہ حوثیوں نے اسرائیلی اور دیگر تجارتی بحری جہازوں کو بھی نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی، تاہم سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہاز اس یقین دہانی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق حوثی وفد میں مسقط میں مقیم سینئر رہنما محمد عبدالسلام اور عبدالملک العجری بھی شامل تھے۔ امریکی جانب سے سفارتخانے کے حکام نے ملاقات میں نمائندگی کی۔

امریکی حکام نے ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے براہِ راست سوال کا جواب دینے کے بجائے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ اور بحری سکیورٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے امریکا سے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پیر کو حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی تصدیق کی تھی، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں۔

یہ خفیہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں حوثیوں کی سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ لڑائی میں شدت آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی حالیہ دنوں میں بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب واقع اہم مقامات پر اپنی گرفت مضبوط کرچکے ہیں، جس سے عالمی تجارتی جہاز رانی کی سکیورٹی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button