بجلی چوری پر پورا فیڈر نہیں، صرف متعلقہ ٹرانسفارمر بند ہوگا، اویس لغاری

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی چوری اور لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فیڈر کی سطح کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر بجلی بند کرنے کا نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے اویس لغاری نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت پورے فیڈر کو بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ جس ٹرانسفارمر پر بجلی چوری کی نشاندہی ہوگی، صرف اسی کو بند کیا جاسکے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹرانسفارمر کو آن اور آف کرنے کا نظام دنیا بھر میں استعمال ہونے والا نیا تصور ہے، جس کا ریگولیٹری فریم ورک آئندہ سال اپریل یا مئی تک فراہم کردیا جائے گا۔

اویس لغاری کے مطابق ملک میں تقریباً 14 ہزار فیڈرز ہیں، جن میں سے ساڑھے 3 ہزار فیڈرز پر بجلی چوری اور لائن لاسز کے باعث لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں ڈسکوز کو دی گئی اجازت سے کئی سو گنا زیادہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ ڈسکوز کا بجلی کا نظام اوورلوڈ ہوچکا ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہر حلقے میں تقریباً 60 کروڑ سے ایک ارب روپے تک سرمایہ کاری درکار ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر سسٹم کی اپ گریڈیشن کے لیے تقریباً 200 ارب روپے درکار ہوں گے، جسے 25 برس میں صارفین سے ریکور کیا جائے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈیمانڈ نوٹس میں ملی بھگت کے ذریعے لوڈ کم ظاہر کیا جاتا ہے، جس سے بجلی کے نظام پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسکوز کے عملے کی مبینہ ملی بھگت اور رشوت کے باعث کم لوڈ ظاہر کرنے سے نظام کے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈسکوز کی بہتری کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ہدایت کردی گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیک آورز میں بعض گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس نہ چلانے کے باعث بھی لوڈشیڈنگ ہوئی، کیونکہ گیس کارگو کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق پیک آورز میں لوڈشیڈنگ کا ایک مقصد فیول کاسٹ میں کمی لانا تھا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ کسی آئی پی پی کے ساتھ نیا معاہدہ نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے میڈیا میں چلنے والی بعض خبریں درست نہیں۔

اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا محمد حیات پاور نے بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں پر حکومت سے سخت سوالات کیے۔ انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ اور مہنگے بجلی کے بلوں کے باعث عوام میں جانا مشکل ہوگیا ہے، جبکہ کسان بھی بجلی کے بھاری بلوں سے متاثر ہورہے ہیں۔

رانا محمد حیات نے کہا کہ اگر کسان مشکلات کا شکار رہے گا تو زرعی پیداوار اور برآمدات کیسے بڑھیں گی اور ملکی جی ڈی پی میں اضافہ کیسے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت ملک کے بجائے صرف آئی ایم ایف کے لیے کام کررہی ہے۔

اس پر اویس لغاری نے رانا محمد حیات کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ذمہ دار فورم پر غیر ذمہ دارانہ بات کررہے ہیں اور انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ بجلی مزید مہنگی ہوئی ہے۔

اجلاس میں ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے حکام نے بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ مون سون کے دوران 8 اضلاع میں 150 ٹرانسفارمرز فراہم کیے گئے ہیں۔ 132 کے وی گرڈ اسٹیشن پڈھیانہ کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر بحث آیا۔

مزید خبریں

Back to top button