ڈگری ہاتھ میں،شعبہ غائب! AI کی ریس میں ہارتی ہماری درسگاہیں!

نہال معظم

مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس اب صرف سائنس فکشن فلموں یا کمپیوٹر لیبارٹریز کا موضوع نہیں رہی بلکہ ہمارے روزمرہ کاموں، میڈیا، طب، قانون، تعلیم اور تجارت تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال ہمارے تعلیمی نظام، بالخصوص یونیورسٹیوں کے سامنے کھڑا ہے کہ کیا وہ نوجوانوں کو اس بدلتی دنیا کے لیے تیار کر رہی ہیں یا اب بھی پرانے نصاب اور روایتی تدریسی طریقوں سے چمٹی ہوئی ہیں؟

تصور کیجیے، ایک نوجوان چار سال تک یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے اپنا وقت، پیسہ اور توانائی صرف کرتا ہے، لیکن ڈگری مکمل کرکے جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس شعبے کے لیے اس نے تیاری کی تھی، وہاں کام کرنے کا انداز ہی بدل چکا ہے۔ یہ محض ایک خدشہ نہیں بلکہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ ماضی میں کلاس روم میں حاصل کیا گیا علم کئی برس تک انسان کے پیشہ ورانہ سفر میں کام آتا تھا، کیونکہ تبدیلی کی رفتار نسبتاً سست تھی۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ وہ کام جن میں صرف معلومات یاد رکھنا، اعداد و شمار جمع کرنا یا ایک مقررہ طریقے کے مطابق کام کرنا شامل تھا، ان میں مصنوعی ذہانت تیزی سے جگہ بنا رہی ہے۔

اس لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ یونیورسٹیوں میں نئے کمپیوٹر یا جدید سافٹ ویئر نصب کر دیے جائیں یا کسی ایک ڈگری میں مصنوعی ذہانت کا ایک مضمون شامل کر دیا جائے۔ اصل ضرورت تعلیمی سوچ تبدیل کرنے کی ہے۔ طب سے انجینئرنگ، صحافت سے وکالت اور زراعت سے کاروبار تک تقریباً ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کام کرنے کے طریقے تبدیل کر رہی ہے۔ آنے والے گریجویٹس مصنوعی ذہانت استعمال کریں گے، سوال صرف یہ ہے کہ وہ اسے سمجھ کر استعمال کریں گے یا بغیر سوچے اس کے نتائج پر بھروسا کریں گے۔

ہمارے ہاں اب بھی بہت سی جگہوں پر تعلیم کا معیار اس بات سے جانچا جاتا ہے کہ طالب علم نے کتنا مواد یاد کیا اور امتحان میں کتنا لکھا۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں یہ طریقہ مزید کمزور ہو جاتا ہے، کیونکہ چند لمحوں میں بے شمار معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اب اصل اہمیت اس انسان کی ہوگی جو درست سوال پوچھ سکے، مختلف معلومات میں سے درست بات تلاش کر سکے، مشین کے جواب پر اندھا یقین کرنے کے بجائے اس کی جانچ کر سکے اور کسی معاملے کے اخلاقی پہلو کو سمجھتے ہوئے فیصلہ کر سکے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ یونیورسٹیاں طلباء کو صرف مصنوعی ذہانت کے استعمال کا طریقہ نہ سکھائیں بلکہ انہیں یہ بھی بتائیں کہ اس ٹیکنالوجی کی حدود کیا ہیں۔ مشین غلط معلومات دے سکتی ہے، تعصب کو دہرا سکتی ہے اور بعض اوقات انتہائی اعتماد کے ساتھ غلط جواب پیش کر سکتی ہے۔ اس لیے مستقبل کا کامیاب طالب علم وہ نہیں ہوگا جسے ہر سوال کا جواب یاد ہو، بلکہ وہ ہوگا جو مشین کے جواب کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اس نئے دور میں یونیورسٹیوں کی کامیابی کا معیار صرف شاندار عمارتیں، بڑی لائبریریاں یا جدید کمپیوٹر لیبارٹریاں نہیں ہوں گی۔ اصل معیار یہ ہوگا کہ وہ کس طرح کے انسان تیار کر رہی ہیں۔ ایسے نوجوان جو مشین کے تابع نہ ہوں بلکہ اسے اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا جانتے ہوں۔ اگر نصاب، اساتذہ کی تربیت اور تدریسی طریقوں میں بروقت تبدیلی نہ لائی گئی تو ہمارے نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیں گے، مگر بدلتی ہوئی دنیا میں خود کو غیر متعلق محسوس کر سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں رٹنے کے کلچر سے نکل کر سوچنے، سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور تخلیق کرنے کا کلچر اپنائیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں مستقبل صرف ان کا ہوگا جو مشین سے مقابلہ نہیں بلکہ اسے سمجھ کر اس کی درست سمت متعین کرنا جانتے ہوں۔

مزید خبریں

Back to top button