گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کا امکان،نئی آٹو پالیسی کا مسودہ آئی ایم ایف کو ارسال!

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستانی گاڑیوں کے خریداروں کے لیے بڑی خبر سامنے آگئی، وفاقی حکومت نے پانچ سالہ نئی آٹو پالیسی 2026-31 کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کردیا۔ آئی ایم ایف سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد پالیسی کو اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کے نفاذ کے بعد مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے، جبکہ گاڑی بک کروانے کے بعد صارفین سے اضافی قیمت وصول کرنے کی روایت ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
مجوزہ پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اس شعبے کے لیے مختلف مراعات تجویز کی گئی ہیں۔ پالیسی کے تحت مقررہ اہداف حاصل کرنے والی کمپنیوں کو مراعات دی جائیں گی، جبکہ خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جانے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کو نئی آٹو پالیسی سے مجموعی طور پر 1,764 ارب روپے کے مالی فوائد حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
⚡الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات تجویز
مجوزہ پالیسی میں عام گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی کو مرحلہ وار 80 فیصد تک کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مزید اہم مراعات زیر غور ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے سامان پر بھی صرف ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد پانچ سالہ آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کو بھیجا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے مشاورت اور متعلقہ فورمز سے منظوری کے بعد نئی پالیسی کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگی۔
نئی آٹو پالیسی کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں، بکنگ کے طریقہ کار، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور آٹو سیکٹر میں مسابقت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔



