ایران امریکا کشیدگی میں نیا موڑ،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پھر مرکزِ نگاہ بن گئی

تہران (جانو ڈاٹ پی کے) ایران نے امریکا پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی مفاہمتی یادداشت پر واپسی خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں حالات معمول پر لانے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جاپانی ہم منصب توشیمیتسو موتیگی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران خطے کی تازہ صورتحال اور ایران امریکا کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ جاپانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے سفارتی حل کی جانب پیش رفت اور صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کا بنیادی ذمہ دار امریکا ہے اور واشنگٹن نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا اگر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آتا ہے تو آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر لانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط کی پابندی کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جاپانی ہم منصب کو ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے کے قیام کے حوالے سے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
دوسری جانب جاپانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت جلد بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی۔ جاپانی وزارت خارجہ کے مطابق جاپان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا ایران مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور بحری تجارت کو شدید خدشات لاحق ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
ایران کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی واپسی کا مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے، جبکہ مختلف ممالک سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔



