بدین:نابالغ بیٹے اوراس کا چچا خاندان سمیت پراسرار طور پر لاپتا، بیوہ خاتون کا اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اورشفاف تحقیقات کا مطالبہ

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ / پی کے)ماتلی کی رہائشی بیوہ خاتون مسمات پٹھانی زوجہ مرحوم رزاق راجپوت اپنے کئی سال سے پراسرار طور پر لاپتا نابالغ بیٹے غلام مصطفیٰ راجپوت کی بازیابی اور اس کی دیکھ بھال کرنے والے چچا اور ان کے اہلِ خانہ کے اچانک لاپتا ہونے کے معاملے پر بدین پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر معاملے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔مسمات پٹھانی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا بیٹا غلام مصطفیٰ ابتدائی تعلیم کے دوران ماتلی کے قریب پھلیلی کے علاقے میں اپنے چچا صابر ملان کے پاس رہائش پذیر تھا، تاہم کئی سال گزرنے کے باوجود نہ تو ان کے بیٹے کا کوئی سراغ مل سکا ہے اور نہ ہی اس کی دیکھ بھال کرنے والے چچا صابر ملان اور ان کے خاندان کا کوئی پتا چل رہا ہے۔ بیوہ خاتون کے مطابق بیٹے کے ساتھ اس کے سرپرست چچا اور اہلِ خانہ کا بھی پراسرار طور پر منظرعام سے غائب ہوجانا معاملے کو محض عام گمشدگی کے بجائے انتہائی تشویشناک بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوہر کی وفات کے بعد وہ بے سہارا زندگی گزار رہی ہیں، جبکہ ماضی میں ان کی مبینہ طور پر زبردستی شادی بھی کرائی گئی تھی۔ مسمات پٹھانی کا کہنا تھا کہ بیٹے کی جدائی ان کے لیے مسلسل ذہنی اذیت کا باعث بنی ہوئی ہے اور انہیں یقین ہے کہ ان کا بیٹا غلام مصطفیٰ زندہ ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیٹے اور اس کے چچا کے اچانک لاپتا ہونے کے پیچھے کوئی نامعلوم محرکات، واقعہ یا حادثہ ہوسکتا ہے، جس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف سندھ ، سندھ حکومت، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ، ایس ایس پی بدین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماتلی اور پھلیلی کے علاقوں میں چچا صابر ملان اور ان کے خاندان کے بارے میں بائیومیٹرک ریکارڈ، جدید فنی ذرائع اور دیگر دستیاب وسائل کے ذریعے معلومات حاصل کی جائیں، جبکہ نابالغ غلام مصطفیٰ راجپوت کی فوری بازیابی یقینی بنا کر اسے اس کی ماں کے حوالے کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button