عمر 40 کے پار، پھر سے ایکنی کا وار؛ یہ جنگ کیسے جیتیں؟

ایمل سفیان

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کیل مہاسے صرف نوجوانی تک ہی محدود رہتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ 40 سال کی عمر کے بعد بھی چہرے پر اچانک دانے نکل سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ بڑھتی عمر کے ساتھ ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں، خاص طور پر خواتین میں اس وقت جب جسم پری مینوپاز کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہو۔ اس دوران ہارمونز میں اتار چڑھاؤ نہ صرف ماہواری کے معمول کو متاثر کرتا ہے بلکہ جلد بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔

پری مینوپاز دراصل مینوپاز سے پہلے کا مرحلہ ہے۔ اس دوران ماہواری کبھی وقت پر آتی ہے اور کبھی اس میں کئی دن یا ہفتوں کا فرق پڑ جاتا ہے۔ بعض خواتین کو گرمی کی لہروں، موڈ میں تبدیلی، نیند کی خرابی اور تھکن جیسی شکایات بھی ہونے لگتی ہیں۔ انہی ہارمونل تبدیلیوں کے ساتھ کچھ خواتین میں کیل مہاسوں کا مسئلہ بھی دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔

ہارمونز بدلیں تو دانے کیوں نکلتے ہیں؟

پری مینوپاز کے دوران ایسٹروجن اور پروجیسٹرون جیسے ہارمونز کی سطح میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایسٹروجن کم ہونے لگتا ہے، جبکہ اینڈروجنز نسبتاً زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اینڈروجنز کا تعلق جلد میں تیل بنانے والے غدود سے بھی ہوتا ہے۔

نتیجتاً جلد میں قدرتی تیل یعنی سیبم زیادہ بن سکتا ہے۔ جب یہ اضافی تیل مردہ جلد کے خلیوں کے ساتھ مل کر مسام بند کرتا ہے تو وہاں سوزش پیدا ہوتی ہے اور دانے نکل آتے ہیں۔

ہارمونل ایکنی کی پہچان کیسے کریں؟

پری مینوپاز سے جڑے ہارمونل دانے عموماً چہرے کے نچلے حصے میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر ٹھوڑی، جبڑے کے آس پاس اور بعض اوقات گردن پر بھی دانے نکل سکتے ہیں۔

یہ دانے عام چھوٹے کیل مہاسوں کے مقابلے میں جلد کے اندر گہرے اور دردناک بھی ہو سکتے ہیں۔ کچھ خواتین میں ماہواری سے پہلے ان کی شدت بڑھ جاتی ہے۔

دانوں سے نجات کیسے ممکن ہے؟

سب سے پہلے جلد کی صفائی کا معمول درست کرنا ضروری ہے۔ ایسا فیس واش استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں سلیسیلک ایسڈ موجود ہو، کیونکہ یہ بند مساموں کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے ریٹینائڈز بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، جو مسام بند ہونے سے روکنے اور جلد کی تجدید میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم جلد کو ضرورت سے زیادہ خشک کرنا بھی درست نہیں۔ ایک ہلکا اور نان کومیدوجینک موئسچرائزر استعمال کرنا بہتر ہے تاکہ جلد کی نمی برقرار رہے۔

اگر دانے بہت زیادہ ہوں، بار بار نکلتے ہوں یا گہرے اور دردناک ہوں تو خود سے دوائیں استعمال کرنے کے بجائے ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بعض خواتین کے لیے ڈاکٹر اسپائرونولیکٹون جیسی اینٹی اینڈروجن دوا تجویز کر سکتے ہیں۔ ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی بھی بعض مخصوص خواتین کے لیے زیرِ غور آ سکتی ہے، لیکن اسے ایکنی کا عام علاج نہیں سمجھنا چاہیے اور اس کا فیصلہ ڈاکٹر ہی مریضہ کی مجموعی صحت کو دیکھ کر کرتا ہے۔

غذا اور روزمرہ عادات بھی اہم ہیں

صرف کریم یا فیس واش پر انحصار کرنے کے بجائے خوراک اور روزمرہ معمول پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ بہت زیادہ میٹھی اور انتہائی پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال کم کرنا بعض خواتین کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مناسب نیند لینا اور ذہنی دباؤ کو کم کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ مسلسل اسٹریس جلد کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔

پری مینوپاز میں ایکنی کا نکلنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ جسم اس مرحلے میں بہت سی تبدیلیوں سے گزر رہا ہوتا ہے اور جلد بھی ان تبدیلیوں کا اثر دکھا سکتی ہے۔ مناسب اسکن کیئر، متوازن طرزِ زندگی اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ جلد کے مشورے سے اس مسئلے کو کافی حد تک قابو کیا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button