قیامت خیز گرمی اور بے زبان قیدی! چڑیا گھر یا عقوبت خانے؟

(آخری قسط)

نہال معظم

ذمہ دار کون؟

پاکستان کے چڑیا گھروں میں جانوروں کی افسوسناک اموات کے کئی واقعات موجود ہیں۔ لاہور چڑیا گھر کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پانچ برس کے دوران تقریباً 70 جانور اور پرندے ہلاک ہوئے۔ ان میں شیر، ٹائیگر، سفید شیرنی، ریچھ، تیندوا، ہرن، بندر اور دیگر جانور شامل تھے۔ بعض اموات بیماریوں، انفیکشن اور حادثات سے ہوئیں، جبکہ کچھ کیسز میں وجوہات بھی واضح نہیں تھیں۔ یہ اعداد محض ایک رجسٹر میں درج اموات نہیں بلکہ اس پورے نظام کے لیے ایک بڑا سوال ہیں کہ آخر ہمارے چڑیا گھر جانوروں کی صحت اور فلاح کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟

نور جہاں، سونیا اور سوزی جیسے ہاتھیوں کے واقعات نے بھی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ بڑے اور ذہین جانوروں کو قید میں رکھنا صرف خوراک اور بنیادی علاج فراہم کرنے کا نام نہیں۔ ان کے لیے مناسب جگہ، سماجی ماحول، جسمانی سرگرمی، پانی، سایہ، مٹی، ذہنی مشغولیت اور ماہر طبی نگہداشت ضروری ہے۔ ایسے واقعات پر وقتی شور تو اٹھتا ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ان سے مستقل اصلاحات بھی جنم لیتی ہیں؟

یہاں پاکستان میں چڑیا گھروں کے انتظام کا ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: آخر ہمارے ملک میں زو کی نگرانی اور انتظام کی ذمہ داری کس ادارے کی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں تمام چڑیا گھروں کو چلانے والا کوئی ایک مرکزی Zoo Management Authority موجود نہیں۔ چڑیا گھروں کا انتظام مختلف صوبائی اور مقامی اداروں کے درمیان تقسیم ہے۔ پنجاب میں چڑیا گھر بنیادی طور پر صوبائی وائلڈ لائف اور پارکس کے انتظامی ڈھانچے کے تحت آتے ہیں۔ لاہور چڑیا گھر کے لیے باقاعدہ Zoo Management Committee بھی موجود ہے۔ سندھ میں کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک سمیت وائلڈ لائف سے متعلق معاملات صوبائی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ دوسرے صوبوں میں بھی زو متعلقہ صوبائی یا مقامی انتظامیہ اور وائلڈ لائف محکموں کے تحت چلتے ہیں۔

اسلام آباد میں Islamabad Wildlife Management Board وائلڈ لائف کے تحفظ اور انتظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دوسری جانب Zoological Survey of Pakistan وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تحت حیوانی تنوع اور zoological research سے متعلق کام کرتا ہے، مگر یہ ملک بھر کے چڑیا گھروں کا روزمرہ انتظام چلانے والا مرکزی ادارہ نہیں۔

یہ انتظامی تقسیم بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں زو صوبائی، شہری یا غیرسرکاری اداروں کے تحت چلتے ہیں۔ اصل سوال قومی معیار اور مؤثر نگرانی کا ہے۔ اگر ایک صوبے کے زو میں جانوروں کے لیے بہتر کولنگ، وسیع باڑے، درخت اور طبی سہولیات موجود ہوں جبکہ دوسرے زو میں جانور تپتے ہوئے کنکریٹ اور لوہے کے درمیان رہنے پر مجبور ہوں تو جانوروں کی فلاح کا معیار محض ادارے کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں چڑیا گھروں کے لیے ایک مضبوط قومی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس میں جانوروں کی نوع کے مطابق کم از کم رقبہ، سایہ، پانی، سبزہ، وینٹی لیشن، درجہ حرارت، نمی، خوراک، طبی سہولیات، سماجی ضرورت، افزودگی یعنی Enrichment اور ہنگامی موسمی حالات سے نمٹنے کے واضح اصول مقرر ہوں۔ ہر زو میں موسم کی پیش گوئی اور ہیٹ ویو الرٹ کے ساتھ جانوروں کے لیے Heat Action Plan ہونا چاہیے۔

موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں چڑیا گھروں کو بھی اپنے پرانے ڈیزائن اور انتظامی سوچ سے باہر نکلنا ہوگا۔ جانوروں کے باڑے صرف سیمنٹ اور لوہے کی چار دیواری نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان میں قدرتی سایہ، درخت، گھاس، مٹی، پانی، مناسب وینٹی لیشن، ٹھنڈا ہونے کی جگہیں اور جانور کے قدرتی رویوں کے مطابق مختلف ماحول موجود ہونا چاہیے۔

سولر انرجی یقیناً توانائی کا ایک اہم اور ماحول دوست ذریعہ ہے، لیکن صرف سولر پینل لگا دینا موسمیاتی تبدیلی کا مکمل حل نہیں۔ اگر ایک طرف چھتوں اور کھلی جگہوں پر سولر پینلز لگائے جائیں اور دوسری طرف درخت کاٹ کر کنکریٹ کا رقبہ بڑھایا جائے تو ہم مسئلے کے ایک حصے کو حل کرکے دوسرے حصے کو مزید سنگین کرسکتے ہیں۔ زو کی منصوبہ بندی میں توانائی کے متبادل ذرائع کے ساتھ شجرکاری، قدرتی سایہ، پانی کے نظام اور سبز انفراسٹرکچر کو بھی بنیادی حیثیت دینا ہوگی۔

یہ بھی ضروری ہے کہ چڑیا گھر صرف جانور دکھانے کی جگہیں نہ رہیں بلکہ حقیقی معنوں میں جنگلی حیات کے تحفظ، تحقیق، تعلیم اور افزائشِ نسل کے مراکز بنیں۔ ایسے جانور جو شدید موسمی حالات میں تکلیف اٹھاتے ہیں، ان کے لیے عالمی معیار کے مطابق رہائش اور طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست اور زو انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ آخر یہ جانور خود اپنے پنجرے کا انتخاب نہیں کرتے؛ انہیں وہاں ہم لے کر آئے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

موسمیاتی تبدیلی جانوروں سے یہ نہیں پوچھ رہی کہ وہ کتنی گرمی برداشت کرسکتے ہیں؛ اصل سوال ہم سے ہے کہ ہم نے ان کے لیے گرمی سے بچنے کی کتنی گنجائش پیدا کی ہے۔

اگر درجہ حرارت مسلسل بڑھتا رہا، درخت کم ہوتے رہے، کنکریٹ بڑھتا رہا، قدرتی ماحول سکڑتا رہا اور جانوروں کی فلاح کو صرف ہنگامی پنکھوں، برف کے ٹکڑوں اور پانی کے چند ٹبوں تک محدود رکھا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے چڑیا گھر تفریح اور معلومات کے مراکز نہیں بلکہ بے زبانوں کے لیے عقوبت خانے بن جائیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button