وزن کم کرنے والی دوا کا جنون، برازیل میں بلیک مارکیٹ کا راج، 83 اموات کی تحقیقات

برازیل (ویب ڈیسک) وزن کم کرنے والی مقبول ادویات کی بڑھتی ہوئی طلب نے برازیل میں غیر قانونی اور اسمگل شدہ ادویات کی بڑی مارکیٹ کو جنم دے دیا ہے، جہاں حکام 83 اموات اور 3,600 سے زائد طبی پیچیدگیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق رواں سال اپریل میں پیراگوئے سے برازیل آنے والی ایک سیاحتی بس کی تلاشی کے دوران کسٹمز حکام نے ڈولسے دے لے کے جاروں کے اندر وزن کم کرنے والی دوا Mounjaro کے فعال جزو ٹرزیپیٹائڈ کی سیکڑوں شیشیاں برآمد کیں۔ مجموعی طور پر ضبط کی گئی کھیپ میں 2,500 سے زائد شیشیاں شامل تھیں۔
برازیلی حکام کو اسمگل شدہ وزن کم کرنے والی ادویات موٹر سائیکل کے ایگزاسٹ پائپ اور جوتوں کے جعلی تلووں سمیت مختلف غیر معمولی مقامات سے بھی مل رہی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برازیل میں 2018 سے اگست 2026 کے وسط تک وزن کم کرنے والی ادویات سے منسلک 83 اموات اور 3,600 سے زائد طبی پیچیدگیاں رپورٹ ہوئیں، جن میں 60 فیصد سے زیادہ کیسز 2025 اور 2026 میں سامنے آئے۔
تاہم رائٹرز کے مطابق غیر مجاز ادویات کا ان اموات اور طبی پیچیدگیوں میں براہِ راست کردار آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوسکا۔
برازیل کی اینٹی کاؤنٹر فٹنگ ایسوسی ایشن کے مطابق غیر قانونی GLP-1 ادویات کی ضبطی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ 2024 میں 609 یونٹس ضبط کیے گئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 60,787 یونٹس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرہ صرف غیر قانونی ادویات کی دستیابی کا نہیں بلکہ ان کی غیر معیاری تیاری، نامناسب ذخیرہ اور غلط درجہ حرارت میں نقل و حمل بھی انجیکشنز کے معیار کو متاثر کرسکتے ہیں۔
طبی ماہرین نے وزن کم کرنے والی ادویات کے ممکنہ مضر اثرات میں لبلبے کی شدید سوزش، خون میں شوگر کی کمی اور دیگر پیچیدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ برازیل کی ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی Anvisa نے بھی بعض طبی خطرات سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کم قیمت اور وزن کم کرنے کی بڑھتی ہوئی خواہش لوگوں کو غیر قانونی ذرائع سے ادویات خریدنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اسی لیے حکام کا کہنا ہے کہ سستی اور قانونی متبادل ادویات کی دستیابی غیر قانونی مارکیٹ کی طلب کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔



