امریکا، ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل مہنگا، برینٹ 91.50 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا

نیویارک (ویب ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے، جس کے باعث منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 56 سینٹ یا 0.6 فیصد اضافے کے بعد 91.50 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 83 سینٹ یا ایک فیصد اضافے کے ساتھ 86.59 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اماراتی مربن خام تیل کی قیمت 98.45 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ کاروباری سیشن میں برینٹ کی قیمت میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا تھا اور دورانِ کاروبار یہ 25 اگست کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ WTI میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 21 اگست کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے باعث خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو خطرات لاحق ہیں۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نظر آنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد کم ہو کر روزانہ صرف پانچ رہ گئی۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
قطر اور عمان سمیت ثالث ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اب تک نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے والے ایک آئل ٹینکر کو تین میزائل نما اشیا سے نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی۔
رائٹرز کے مطابق اگست میں کیے گئے تجزیہ کاروں کے سروے میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ 2026 کے دوران تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہ سکتی ہیں، کیونکہ سمندری راستوں میں خلل برقرار رہنے کا امکان ہے۔



