نیپال اور تبت میں سیلاب کی تباہی، ہلاکتیں 800 تک پہنچ گئیں

کھٹمنڈو (ویب ڈیسک) نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے شدید سیلاب کے بعد تباہی کا سلسلہ جاری ہے، ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 800 تک پہنچ گئی ہے۔

نیپال کے تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے میں امدادی کارکنوں نے اتنا بڑا راستہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جس کے ذریعے اندر داخل ہوکر ممکنہ طور پر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی جاسکتی ہے، تاہم اب تک اندر سے کسی شخص کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

نیپال میں 2 ہزار 500 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں بڑی تعداد پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی بتائی جارہی ہے۔

لاپتہ افراد میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ شدید تباہی اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باوجود بعض افراد کو زندہ بچائے جانے کی اطلاعات نے امید بھی پیدا کی ہے۔

چین کے زیر انتظام تبت میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے، جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری ہوسکتے ہیں۔

شگاتسے کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو اب تک کسی شخص کو زندہ تلاش کرنے میں کامیابی نہیں ملی۔

سیلاب سے تعلیمی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ نیپال کی وزارتِ تعلیم کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ 3 اضلاع میں کم از کم 19 اسکول متاثر ہوئے ہیں۔

وزارت کے مطابق 9 اسکول مکمل طور پر تباہ جبکہ 7 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ کئی تعلیمی اداروں سے اساتذہ اور طلبہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

وزارتِ تعلیم و کھیل کی تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں جبکہ تقریباً 20 طلبہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button