آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، امریکا پہلے وعدے پورے کرے، ایرانی نائب وزیر خارجہ

تہران(ویب ڈیسک) ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریبآبادی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔
کاظم غریبآبادی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے انتظامات پر سمجھوتہ ہوچکا ہے، تاہم راستہ کھولنے کا فیصلہ امریکی ذمہ داریوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی ذمہ داریوں میں اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کی شقوں پر عمل درآمد شامل ہے، جن کے تحت ایران پر فوجی حملوں کا مکمل خاتمہ اور بحری ناکہ بندی اٹھانا ضروری ہے۔
یہ بیان تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک نئے اور عارضی بحری راستے کے قیام سے متعلق مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
غریبآبادی کے مطابق نیا بحری راستہ ریٹرن ہائی وے کی طرز پر کام کرے گا، جس میں بحری جہاز ایران کی جانب سے داخل ہوں گے اور عمان کی جانب سے آبنائے سے باہر نکلیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے اور اگر کوئی جہاز اس سے گزرتا ہے تو یہ ایران کی اجازت اور ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج آبنائے ہرمز میں ہونے والی ہر نقل و حرکت سے مکمل طور پر باخبر ہیں۔
کاظم غریبآبادی نے امریکی حکام کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کردیا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہاز معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔



