زندگی بخش یا جان لیوا؟ ویکسین کی خونی رپورٹ نے سب راز فاش کر دئیے!

راجہ نوید

​پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں ویکسین کے حوالے سے شک و شبہات اور خوف کوئی نئی بات نہیں۔ کئی دہائیوں سے پولیو ڈراپس سے لے کر حالیہ کورونا وبا کے انسداد کے لیے لگائے جانے والے ٹیکوں تک، عوام کے ایک بڑے طبقے کے ذہنوں میں یہ سوالات گردش کرتے رہے ہیں کہ آیا یہ ادویات واقعی انسانی سلامتی کے لیے ہیں یا غریب اقوام کو تجربہ گاہ کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر اکثر ایسی ویڈیوز سامنے آتی رہتی ہیں جن سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی دوا ساز کمپنیوں کے لیے ایک آزمائشی میدان بنا دیا گیا ہے۔ پھر کورونا کے بعد نوجوانوں اور بظاہر صحت مند افراد میں اچانک دل کے دورے پڑنے اور اموات کے واقعات نے ان خدشات کو مزید پختہ کر دیا۔ ویکسین کا بنیادی عمل وائرس کا کمزور روپ جسم میں داخل کرنا ہوتا ہے تاکہ مدافعتی نظام اسے پہچان کر لڑنے کے لیے تیار ہو سکے۔ لیکن ہر شخص کی مدافعتی قوت اس وائرس کو برداشت کرنے کی یکساں صلاحیت نہیں رکھتی، یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ شدید بخار یا جسمانی نڈھالی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ دیگر کو معمولی تکلیف بھی نہیں ہوتی۔

​حال ہی میں یورپ کے ماہرینِ صحت کی ایک نئی تحقیقی رپورٹ سامنے آئی ہے جو اس صورتِ حال پر ایک بالکل مختلف سائنسی زاویے سے روشنی ڈالتی ہے۔ محققین کے مطابق ویکسین کے بعد پیدا ہونے والے شدید اثرات کا راز کسی بیرونی سازش کے بجائے خود انسان کے خون کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ خون کی کیمیائی ساخت، اس میں موجود سفید خلیات اور پروٹینز کی سطح پہلے سے طے کر دیتی ہے کہ جسم کسی دوا کو کس طرح قبول کرے گا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر مدافعتی نظام شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے تو اس کا مطلب دوا کا زہریلا ہونا نہیں، بلکہ اس شخص کے خون کا وہ خاص مالیکیولر ڈھانچہ ہے جو اس وقت کام کر رہا ہوتا ہے۔

​یہ دریافت ہمارے معاشرے کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ اندھے خوف کو سائنسی حقائق کی روشنی میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر کسی ویکسین سے دل کی دھڑکن متاثر ہوتی ہے یا نظامِ مدافعت حد سے زیادہ متحرک ہوتا ہے، تو اس کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ ہر انسانی جسم کا بائیولوجیکل پروفائل الگ ہوتا ہے۔ مستقبل میں اس تحقیق کا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ خون کے نمونوں کی مدد سے پہلے ہی معلوم کیا جا سکے گا کہ کس فرد کو کس نوعیت کی تدبیر کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف شہریوں کا یہ احساسِ کمتری ختم ہو گا کہ انہیں تجرباتی مشقوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ویکسینز کو ہر انسان کی انفرادی ضرورت کے مطابق محفوظ ترین بنایا جا سکے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بیرونی سازشی نظریات سے نکل کر سائنسی حقائق کو پرکھیں۔

مزید خبریں

Back to top button