عمران خان بالکل فٹ تھے،بلڈ پریشر120/80تھا،آنکھ کی بینائی بھی بہتر ہے،عظمیٰ خان

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پمز اسپتال میں طبی معائنے کے بعد صحت کے حوالے سے ان کی بہن عظمیٰ خان کا اہم بیان سامنے آگیا۔ عظمیٰ خان نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ عمران خان بالکل فٹ تھے، ان کا بلڈ پریشر بھی نارمل تھا جبکہ آنکھ کی بینائی میں بھی بہتری آئی ہے۔
عظمیٰ خان کے مطابق انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے دوران ان کی صحت کا جائزہ لیا اور الحمدللہ ان کی طبی حالت بہتر محسوس ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 120/80 تھا، جو نارمل قرار دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ طبی معائنے کے دوران ڈاکٹر نے عمران خان کو زیادہ بولنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ زیادہ بات کرنے سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔ عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان نے جواب دیا کہ "میرا بلڈ پریشر نہیں بڑھتا۔”
عمران خان کی آنکھوں سے متعلق بات کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا کہ ان کی بینائی بھی بالکل بہتر تھی اور انہیں آنکھوں کے حوالے سے کوئی ایسی تشویش نظر نہیں آئی جو فوری خطرے کی علامت ہو۔
عظمیٰ خان نے اپنی پریس کانفرنس میں عمران خان کی صحت کے بارے میں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ماشاءاللہ، ماشاءاللہ عمران خان بالکل فٹ تھے، الحمدللہ۔”
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی پمز اسپتال منتقلی اور طبی معائنے کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے پہلے ہی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو سکیورٹی صورتحال کے باعث شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز منتقل کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا۔ حکومتی حکام کے مطابق ڈاکٹروں نے عمران خان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا تھا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اس اقدام پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔ پارٹی قیادت نے معاملے پر قانونی کارروائی اور احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
عظمیٰ خان کے تازہ بیان سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے جاری سیاسی بحث میں ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی مجموعی حالت بہتر تھی، بلڈ پریشر نارمل تھا اور آنکھ کی بینائی بھی بہتر قرار دی گئی۔



