ریپبلکن پارٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی،وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کو بدترین شکست کا سامنا

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی وسط مدتی انتخابات کی ابتدائی مرحلے کے دوران کئی ریاستوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ اہم امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق وسط مدتی الیکشن میں صدر ٹرمپ کے پسندیدہ امیدواروں کی شکست نے حکمراں جماعت ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
فلوریڈا میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ بائرن ڈونلڈز نے گورنر کے لیے ریپبلکن نامزدگی حاصل کرلی تاہم وہ تقریباً 48 فیصد ووٹ لے سکے اور 50 فیصد کی حد عبور نہ کرسکے۔ نومبر کے عام انتخابات میں ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق ریپبلکن ڈیوڈ جولی سے ہوگا۔
اسی طرح فلوریڈا میں ہی سینیٹ کے پرائمری میں ڈیموکریٹ اینجی نکسن نے سابق فوجی افسر الیکس ونڈمین کو شکست دے کر سب کو حیران کردیا۔ اینجی نکسن نے انتخابی مہم میں غزہ جنگ اور فلسطینیوں کی حمایت سمیت بائیں بازو کے کئی نکات کو نمایاں کیا جو ان کی کامیابی سبب بنا۔
ٹرمپ کے پسندیدہ امیدوار شکست سے دوچار
صدر ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار کیٹالینا لاؤف فلوریڈا کے ایوان نمائندگان کے ایک حلقے میں شکست کھا گئیں جبکہ موجودہ رکن کانگریس کوری ملز بھی ریپبلکن پرائمری ہار گئے۔
وائیومنگ میں بھی ٹرمپ کی حمایت یافتہ گورنر امیدوار میگن ڈیگن فیلڈر کامیاب نہ ہوسکیں اور ریاستی سینیٹر ایرک بارلو نے ریپبلکن نامزدگی حاصل کرلی۔
تاہم سینیٹ کی دوڑ میں ٹرمپ کے مضبوط اتحادی ہیرئٹ ہیگ مین نے ریپبلکن نامزدگی جیت لی۔
الاسکا میں اہم مقابلہ
الاسکا میں ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان اور ڈیموکریٹک سابق رکن کانگریس میری پیلٹولا نومبر کے عام انتخابات کے لیے آگے بڑھ گئے ہیں۔ ان کی کامیابی ڈیموکریٹس کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے۔
ان کی کامیابی سے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کو وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ کی نشستیں بڑھا کر اکثریت حاصل کرنے میں مدد ملے گی جہاں ٹرمپ کی جماعت ریپلکن کو معمولی برتری حاصل ہے۔
مجموعی صورت حال
مجموعی طور پر فلوریڈا، الاسکا اور وائیومنگ کے پرائمری نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی حمایت اب بھی ریپبلکن امیدواروں کے لیے طاقتور اثاثہ ہے لیکن کئی حلقوں میں یہ طاقت بے اثر نظر آتی ہے۔
ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کی شکست کا یہ ابتدائی رجحان نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کے لیے ہونے والی بڑی سیاسی کشمکش کا اہم اشارہ قرار دیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ سے متعلق متنازع اسرائیل نواز پالیسی اور ایران جنگ کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کو دھچکا پہنچا ہے جس کے اثرات وسط مدتی الیکشن میں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔



