زیارت دہشت گرد حملہ، بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقاتی کمیشن قائم کردیا

زیارت(جانوڈاٹ پی کے) بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت میں 7 جولائی کو ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن قائم کردیا، جس کا مقصد واقعے کے محرکات، سکیورٹی انتظامات میں ممکنہ خامیوں اور ذمہ داران کا تعین کرنا ہے۔

عدالت نے جسٹس محمد عامر نواز رانا کو تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ کمیشن کو حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور واقعے کے پس پردہ عوامل کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 7 جولائی کو زیارت میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں 30 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد شہید اہلکاروں کے لواحقین نے کوئلہ پھاٹک پر 10 روز تک احتجاجی دھرنا دیا، جو حکومتی وفد کی یقین دہانی پر ختم کیا گیا تھا۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچستان ٹربیونل آف انکوائریز آرڈیننس 1969 کے تحت کمیشن تشکیل دیا ہے۔ کمیشن پولیس اہلکاروں سمیت دیگر جانی نقصان کے محرکات اور واقعے سے قبل و دوران سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لے گا۔

تحقیقاتی کمیشن حملے سے قبل اور دوران موجودہ و سابق پولیس افسران اور متعلقہ اداروں کے کردار کا تعین کرے گا، جبکہ سکیورٹی انتظامات میں کسی غفلت، کوتاہی یا خامی کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔

کمیشن حملے سے قبل موصول ہونے والی ممکنہ اطلاعات اور ان پر کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حملے کے وقت تعینات سکیورٹی نفری، اہلکاروں کی ذمہ داریوں اور حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لے گا۔

تحقیقاتی کمیشن کو متعلقہ اداروں سے ریکارڈ، دستاویزات اور شواہد طلب کرنے کے علاوہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی شخص کا بیان قلمبند کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

کارروائی مکمل ہونے کے بعد کمیشن اپنی سفارشات اور حتمی رپورٹ حکومت بلوچستان کو پیش کرے گا۔ کمیشن کے قیام کا مقصد واقعے کے حقائق سامنے لانا، ذمہ داروں کا تعین کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرنا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button