غزہ جنگ پربڑا سفارتی دھماکا،پاکستان،سعودی عرب،ترکیہ سمیت8ممالک یک زبان

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) غزہ کی جنگ اور فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے پر پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرلیا۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، اردن اور انڈونیشیا نے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی جانب سے غزہ جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کو مسترد کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔

8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو سخت پیغام

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ جامع منصوبے پر عمل درآمد سے انکار امن کو واضح طور پر مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ اسلامی ممالک نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد میں رکاوٹیں ختم کرے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے منصوبے کو مسترد کرنا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور غزہ میں موجودہ صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

ٹرمپ کی امن کوششوں کو ناکام بنانے پر تشویش

اسلامی ممالک نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو ناکام بنانے کی مبینہ کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ امن منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔

غزہ کی تعمیر نو کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ

پاکستان سمیت دیگر ممالک نے غزہ میں جاری انسانی بحران سے نمٹنے، سیکیورٹی اور استحکام یقینی بنانے پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اسلامی ممالک نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ غزہ جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت میں تعاون کریں تاکہ جنگ کے خاتمے اور مستقل امن کی راہ ہموار ہوسکے۔

آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے پر 8 ممالک متحد

مشترکہ بیان میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے یا مسترد کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

اسلامی ممالک نے واضح کیا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کا راستہ ہے۔

1967کی سرحدیں، مشرقی یروشلم دارالحکومت بنانے کی حمایت

بیان میں کہا گیا کہ 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے جبکہ مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت بھی دہرائی گئی۔

اسلامی ممالک کے مطابق فلسطینی ریاست کے حق سے انکار خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے امکانات کو مزید نقصان پہنچائے گا۔

غزہ روڈ میپ پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ

مشترکہ بیان میں بورڈ آف پیس کے کردار کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ غزہ روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

8 اسلامی ممالک نے امریکا کی فعال حمایت اور شمولیت سے جامع منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

یوں غزہ کے معاملے پر پاکستان سمیت 8 اہم اسلامی ممالک کا مشترکہ مؤقف سامنے آنے سے خطے کی سفارتی صورتحال میں ایک نیا موڑ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں پر بھی غزہ میں جنگ کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی اقدامات کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button