پارلیمنٹ میں بڑا سیاسی و قانون سازی کا معرکہ!نئے صوبوں پر بحث،17قوانین منظوری کیلئے تیار

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) طویل وقفے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس کل طلب کرلیے گئے ہیں، جہاں قانون سازی کے ساتھ ساتھ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ دونوں ایوانوں میں مکہ امن معاہدے پر متفقہ قرارداد بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ مجموعی طور پر 17 قوانین منظوری کے لیے ایوان میں پیش ہوں گے۔
سینیٹ کا 69 نکاتی ایجنڈا، 10 قوانین منظوری کیلئے پیش
ذرائع کے مطابق سینیٹ سیکریٹریٹ نے اجلاس کا 69 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا ہے، جس میں 10 قوانین منظوری کے لیے شامل ہیں۔
ایجنڈے میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2026ء، اینٹی ریپ تحقیقات و مقدمہ ترمیمی بل 2026ء اور درآمدات و برآمدات کنٹرول ترمیمی بل 2026ء شامل ہیں۔
اسی طرح سائنس اینڈ ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی ترمیمی بل، سول سرونٹس ترمیمی بل اور سروس ٹربیونلز ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
سینیٹ میں امیگریشن ایکٹ ترمیمی بل 2026ء، زنا کے جرم اور حدود کے نفاذ سے متعلق ترمیمی بل، پاکستان پاسپورٹ ترمیمی بل اور سی آر پی سی ترمیمی بل بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
قومی اسمبلی میں 42 نکاتی ایجنڈا، 7 قوانین کی منظوری متوقع
دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس کا 42 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔ ایوان میں 7 قوانین منظوری کے لیے جبکہ 4 نئے قوانین متعارف کروائے جائیں گے۔
قومی اسمبلی میں اوگرا ترمیمی بل 2026ء اور وفاقی حکومت رئیل اسٹیٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام سے متعلق قانون سازی منظوری کے لیے پیش ہوگی۔
اس کے علاوہ ٹریول ایجنسیز ترمیمی بل، پاکستان ٹورسٹ گائیڈز ترمیمی بل، پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹ بل اور موشن پکچر ترمیمی بل بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
چار نئے قوانین بھی ایوان میں آئیں گے
قومی اسمبلی میں ای او بی آئی ترمیمی بل 2026ء، گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی بل، قدرتی گیس ڈویلپمنٹ سرچارجز ترمیمی بل 2026ء اور محکمہ موسمیات ترمیمی بل 2026ء متعارف کروائے جائیں گے۔
نئے صوبوں کا معاملہ، ایوان میں گرما گرم بحث متوقع
اجلاس کی سب سے اہم سیاسی پیش رفت نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر متوقع تفصیلی بحث ہے۔ اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف سامنے آنے کے باعث پارلیمنٹ میں سیاسی ماحول گرم ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب مکہ امن معاہدے پر متفقہ قرارداد پیش کیے جانے کی توقع ہے، جسے دونوں ایوانوں میں اہم سفارتی اور علاقائی پیش رفت کے طور پر زیر بحث لایا جائے گا۔



