’’پنجاب کی خاطر چھوٹے صوبوں کا استحصال کیا جارہا ہے‘‘خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ کاوفاق پربڑاالزام

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا اور وفاق کے درمیان وسائل کی تقسیم پر اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کرگئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وفاقی حکومت پر پنجاب کو اضافی وسائل فراہم کرنے اور خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں کے حقوق نظرانداز کرنے کا سنگین الزام عائد کردیا۔

پنجاب اور دیگر صوبوں کی ترقی کے موازنے اور ’’سسٹم کولیپس‘‘ سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے مزمل اسلم نے سوال اٹھایا کہ ’’سسٹم آخر کیوں کولیپس کر رہا ہے؟ کیا چھوٹے صوبوں کو جان بوجھ کر پنجاب سے پیچھے کیا جارہا ہے؟‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے غیر متوازن فیصلوں نے صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں واضح تضاد پیدا کردیا ہے اور صرف پنجاب حکومت کی معاونت کے لیے دیگر صوبوں کے حقوق اور وسائل متاثر کیے جارہے ہیں۔

66.8 ارب روپے اضافی ادائیگی کا دعویٰ

مزمل اسلم نے نیٹ ہائیڈل پاور پرافٹ کی ادائیگیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے پن بجلی وسائل خیبرپختونخوا کے مقابلے میں کم ہیں، اس کے باوجود پنجاب کو ایک سال میں 66.8 ارب روپے اضافی دیے گئے۔

ان کے مطابق گزشتہ سال وفاق کی جانب سے پنجاب کو 96.8 ارب روپے جبکہ خیبرپختونخوا کو صرف 30 ارب روپے دیے گئے۔

مشیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پنجاب کو خیبرپختونخوا کے مقابلے میں 106.2 ارب روپے اضافی دیے گئے اور سوال کیا کہ ’’یہ کیسا انصاف ہے؟‘‘

’’پنجاب حکومت کو وینٹیلیٹر پر چلایا جارہا ہے‘‘

مزمل اسلم نے سخت الفاظ میں الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت دوسرے صوبوں کے وسائل روک کر پنجاب کی حکومت کو مسلسل وینٹیلیٹر پر چلا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض معاملات میں دیگر صوبوں کے وسائل سے 11 ارب روپے کے جہاز خریدنے اور خاندان کے نام سے منصوبے چلانے جیسے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کو اضافی وسائل کے ساتھ ساتھ قابلِ تقسیم محاصل (NFC) میں 51.5 فیصد حصہ بھی مل رہا ہے، جس سے صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا فرق مزید نمایاں ہوتا ہے۔

وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں خیبرپختونخوا کا حصہ کتنا؟

مزمل اسلم نے وفاقی ترقیاتی پروگرام پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق وفاق کے 786 ترقیاتی منصوبوں میں خیبرپختونخوا کے صرف 7 منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ رواں سال کے بجٹ میں ضم شدہ اضلاع کے فنڈز نکالنے کے بعد 1000 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں خیبرپختونخوا کے لیے صرف 2.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وسائل کی تقسیم پر نیا سیاسی محاذ؟

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کے سخت بیانات نے وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے موجود مالی اور سیاسی اختلافات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ مزمل اسلم نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں برابری، شفافیت اور آئینی تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔

ان الزامات کے بعد این ایف سی، نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور وفاقی ترقیاتی بجٹ میں صوبوں کے حصے ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ان مخصوص اعداد و شمار اور الزامات پر ردعمل سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید وضاحت ہوسکے گی۔

نوٹ: خبر میں مالی اعداد و شمار اور الزامات مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے بیان کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں؛ انہیں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button