بدین میں محکمہ ریونیو کیخلاف کرپشن کے الزامات،ایس ٹی پی کا دھرنا مذاکرات کے بعد ختم

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)محکمہ ریونیو بدین میں مبینہ کرپشن اور غیرقانونی وصولیوں کے خلاف ایس ٹی پی کا احتجاج مطالبات تسلیم ہونے پر دھرنا ختم محکمہ ریونیو بدین میں مبینہ کرپشن، غیرقانونی وصولیوں اور سرکاری فیس سے زائد رقم لینے کے خلاف سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کے سٹی صدر یاسر سیال کی قیادت میں پارٹی کارکنوں اور شہریوں نے مختیارکار آفس بدین کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین نے ریونیو حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مبینہ بدعنوانیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے یاسر سیال اور دیگر رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ مختیارکار بدین، تپیداروں اور محکمہ ریونیو کے بعض اہلکار مختلف سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے شہریوں سے مقررہ سرکاری فیس سے کئی گنا زیادہ رقم وصول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیل سرٹیفکیٹ کی سرکاری فیس پانچ ہزار روپے ہے تو شہریوں سے چالیس ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ صرف ایک دستخط کرنے کے عوض بھی پانچ سے دس ہزار روپے تک مبینہ طور پر غیرقانونی رقم طلب کی جاتی ہے رہنماؤں نے کہا کہ ہر شہری، خواہ وہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو یا عام آدمی ہو، قانون کے مطابق بغیر کسی اضافی ادائیگی کے اپنا جائز کام کرانے کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر محکمہ ریونیو میں مبینہ غیرقانونی وصولیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ ضلع بھر تک وسیع کیا جائے گا۔
بعدازاں اسسٹنٹ کمشنر بدین راجیش کمار اور مختیارکار بدین سہرب شیخ دھرنے کے مقام پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کیے۔ حکام نے شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے مسائل کے فوری حل اور مبینہ غیرقانونی وصولیوں کی روک تھام کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد مظاہرین نے اپنا دھرنا پرامن طور پر ختم کر دیا۔



