سندھ کابینہ اجلاس: گاڑیوں کی رجسٹریشن و انشورنس نظام میں بڑی اصلاحات اور پی پی پی یونٹ کو کمپنی بنانے کی منظوری

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس، انشورنس اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) سے متعلق اہم ترین اصلاحات کی منظوری دے دی گئی ہے۔

محکمہ ایکسائز کی تجاویز کی روشنی میں منظور کی گئی پالیسی کے تحت آف روڈ یا تباہ شدہ گاڑیوں کے مالکان 30 ستمبر 2026ء تک تحریری اعلامیہ جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ جولائی 2010ء سے ٹیکس نہ دینے والی اور اعلامیہ جمع نہ کرانے والی گاڑیوں کو آف روڈ تصور کیا جائے گا۔ غیر ادا شدہ واجبات پر رجسٹریشن 30 روز میں معطل اور 60 روز بعد منسوخ کر دی جائے گی۔ مزید برآں، لائسنس یافتہ موٹر ڈیلرز کو ہولڈنگ پیریڈ کی سہولت دی گئی ہے جس کے تحت دوبارہ فروخت کے لیے حاصل کی گئی گاڑیاں 12 ماہ تک محض 100 روپے رپورٹنگ فیس کے ساتھ بغیر فوری رجسٹریشن کے رکھی جا سکیں گی۔

کابینہ نے موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس (MTPI) میں ترمیم کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ گاڑی کی ملکیت تبدیل ہونے کے باوجود انشورنس اپنی مدت تک برقرار رہے گی اور خریدار کو دوبارہ انشورنس نہیں کرانی پڑے گی۔ اس اقدام کو SECP اور انشورنس ایسوسی ایشن کی تائید حاصل ہے۔

اجلاس میں پی پی پی یونٹ کی تنظیمِ نو کرتے ہوئے اسے کمپنیز ایکٹ 2017ء کے تحت مکمل سرکاری ملکیت کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے کی منظوری دی گئی، جس کا مجاز سرمایہ 8 ارب روپے اور ابتدائی سرمایہ 50 کروڑ روپے ہوگا۔ موجودہ ڈی جی پی پی پی اس نئی کمپنی کے پہلے سی ای او ہوں گے۔

مزید خبریں

Back to top button