اے ایس آئی کی لڑکی سے زیادتی پر پورا تھانہ معطل، ایف آئی آر بھی درج

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) صوبائی دارالحکومت لاہور میں اے ایس آئی کی جانب سے ایک ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے سنگین واقعے پر بڑا انتظامی دھماکا ہوا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سخت نوٹس لیتے ہوئے تھانہ غازی آباد کے ایس ایچ او سمیت پورے کے پورے تھانے کے عملے کو معطل کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی۔

تفصیلات کے مطابق، لاہور کے علاقے غازی آباد میں انویسٹی گیشن ونگ کے اے ایس آئی عمران نے دو روز قبل ایک ذہنی معذور لڑکی کو مبینہ طور پر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ واقعہ سامنے آنے پر اگرچہ ملزم اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم تھانے کے افسران کی جانب سے اعلیٰ حکام کو اندھیرے میں رکھنے اور کارروائی میں لیت و لعل سے کام لینے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے رات گئے اچانک تھانہ غازی آباد کا دورہ کیا اور معاملے کو چھپانے اور سستی دکھانے پر سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے پوری کی پوری نَفَری کو معطل کر دیا۔ معطل ہونے والوں میں ایس ایچ او غازی آباد شہریار، سب انسپکٹرز، 8 اے ایس آئی اور 5 ہیڈ کانسٹیبلز سمیت مجموعی طور پر 78 اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فرنٹ ڈیسک کا عملہ، محرر اور ڈرائیورز بھی اس سخت ترین کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔

حکام کے مطابق کارروائی میں تاخیر اور سینیئر افسران کو لاعلم رکھنے کی پاداش میں ایس ایچ او سمیت معطل ہونے والے تمام اہلکاروں کے خلاف تھانہ غازی آباد میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ جبکہ حالات کو کنٹرول میں رکھنے اور عوامی مسائل کی فوری داد رسی کے لیے علی زیب دستگیر کو فوری طور پر نیا ایس ایچ او غازی آباد تعینات کر دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button