نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا، سپریم کورٹ

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بچوں کے نان و نفقے (خرچہ) کے تعین کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بچے کی معقول ضروریات، والد کی مالی استطاعت، آمدنی اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھ کر ہی نان و نفقہ مقرر کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مسماۃ شاہین نواز کی اپیل کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

تفصیلی فیصلے  میں سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے (محمد عمران باقر بنام مسماۃ زرنین آرزو – PLD 2026 SC 170) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ باپ پر اپنی اولاد کی کفالت قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، تاہم اس کی مقدار کا تعین بچے کی حقیقی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کے عین مطابق ہونا چاہیے۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ نچلی عدالتوں کے طے کردہ نان و نفقہ میں مداخلت صرف تبھی ممکن ہے جب فیصلہ واضح طور پر من مانی، غیر معقول یا قانون کے خلاف ہو۔

درخواست گزار خاتون کا مؤقف تھا کہ بچے کے والد بنگلا دیش کی ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں بطور منیجر اچھی تنخواہ حاصل کرتے ہیں، لہٰذا بچے کا نان و نفقہ 40 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا جائے۔

فیملی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ (ڈسٹرکٹ جج) نے بچے کا نان و نفقہ 30 ہزار روپے ماہانہ بمعہ 15 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ مقرر کیا تھا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ نے  آبزرویشن دیتے کہا کہ عدالت نے نوٹ کیا کہ والد کی آمدنی اور بچے کی ضروریات کے ساتھ ساتھ والد پر اپنی پہلی شادی سے ہونے والے دو دیگر بچوں کی کفالت کی بھی ذمہ داری ہے۔ درخواست گزار نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کسی قسم کی قانونی خامی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں، لہٰذا آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت اس کیس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

 

مزید خبریں

Back to top button