عمران خان نے تیل کی قیمتیں کم کرکے ملک کو دیوالیہ پن کی طرف دھکیلا، احسن اقبال کی تنقید

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑھتی عالمی قیمتوں کے باوجود تیل سستا کرکے ملک کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچا دیا۔

لاہور ایکسپو سینٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دنیا تیزی سے پیٹرول پر انحصار کم کرکے الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد درآمدی ایندھن ٹرانسپورٹ سیکٹر میں استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے پاکستان کی درآمدی تیل پر انحصار کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے، اسی لیے حکومت تیزی سے ای وی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک وہیکل میں تبدیلی کے لیے حکومت 80 ہزار روپے تک کی معاونت فراہم کر رہی ہے، جبکہ کوشش ہے کہ ٹرانسپورٹ کا نظام مقامی طور پر پیدا ہونے والی بجلی پر منتقل کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار برآمدات میں اضافے پر ہے۔ ان کے بقول ملک کو ایسی معیشت بنانا ہوگا جو ڈالر خرچ کرنے کے بجائے ڈالر کمائے، ورنہ آئی ایم ایف پر انحصار ختم نہیں ہو سکے گا۔

احسن اقبال نے کہا کہ 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر زرمبادلہ بھیجتے ہیں، جبکہ برآمدات میں مزید اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات کی ہیں تاکہ ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکس وصولی کی شرح کم ہے، اور اگر ٹیکس چوری کا سلسلہ جاری رہا تو ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ پڑے گا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 12 سال بعد پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، جبکہ ان کے مطابق تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ملک معاشی بحران کا شکار ہوا اور عدم اعتماد کی تحریک کے بعد پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا گیا۔

تیل کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عالمی قیمتیں کم ہوں گی تو حکومت بھی عوام کو ریلیف دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا۔ایران کشیدگی کے اثرات صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے متعدد ممالک پر پڑ رہے ہیں، تاہم امید ہے کہ دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے اور صورتحال میں بہتری آئے گی۔

مزید خبریں

Back to top button