’’کاکروچ آجائیں تو جاتے نہیں‘‘ وزیر تعلیم کے استعفے پر سی جے پی صدر کا بیان

نئی دلی (ویب ڈیسک) بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد احتجاجی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے مزید مطالبات پر جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل میں لکھا، "کاکروچز جیت گئے، جمہوریت جیت گئی۔”

بعد ازاں کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے احتجاجی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوام کو اپنی آواز بلند کرنی چاہیے، کیونکہ اسی سے حکمران عوام کے سامنے جوابدہ رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ان کی تحریک کی کامیابی ہے، تاہم ان کے مزید مطالبات بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے میں جان گنوانے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے، احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کی تحقیقات کی جائیں اور مظاہرین کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔

ابھیجیت دیپکے نے پولیس کی کارروائی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال قابلِ قبول نہیں۔

رپورٹس کے مطابق امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ تقریباً دو ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر میں احتجاج کر رہی تھی۔ اس دوران سماجی کارکن سونم وانگ چک نے بھی 26 روزہ بھوک ہڑتال کی تھی۔

20 جولائی کو تنظیم کی جانب سے بڑے احتجاج کی کال پر ہزاروں نوجوان جنتر منتر پہنچے، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ رپورٹس کے مطابق پولیس نے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا، متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم مظاہرین نے وزیرِ تعلیم کے استعفے سمیت اپنے دیگر مطالبات پر اصرار جاری رکھا۔ اپوزیشن جماعتوں اور بعض سماجی شخصیات نے بھی طلبہ کے بعض مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا۔

نوٹ: اس خبر میں شامل احتجاج، تنظیم کے بیانات اور واقعات سے متعلق دعوے متعلقہ فریقوں کے مؤقف پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

مزید خبریں

Back to top button