نواز شریف کے بیان پر پیپلز پارٹی کا سخت ردعمل، سندھ اور میرپورخاص کی توہین ناقابلِ قبول قرار

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی بھی صوبے، شہر یا علاقے کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا، "نواز شریف صاحب! سیاست ہوتی رہے گی، مگر سندھ اور کشمیر کی سرزمین اور عوام کو طنز و مزاح کا موضوع نہ بنائیں۔” انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کا یہ رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شہر یا ضلع کا نام سیاسی تقریر میں مذاق یا تقابل کے انداز میں استعمال کرنا شعوری پسماندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بقول اگرچہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ "تلخی نہیں ہونی چاہیے”، لیکن ان کے اپنے الفاظ ہی سیاسی تلخی اور غیر ضروری تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں۔
دوسری جانب سندھ کے وزیرِ ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے بھی نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے خطاب میں تاریخی شہر میرپورخاص اور اس کے لاکھوں عوام کی توہین کی ہے۔
ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی شہر یا خطے کا نام طنز یا تحقیر کے انداز میں لینا مناسب طرزِ سیاست نہیں۔ ان کے مطابق میرپورخاص سندھ کی تاریخ، ثقافت، زراعت اور قومی معیشت میں اہم مقام رکھتا ہے اور یہاں کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور جمہوریت کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی دلائل ختم ہونے پر نواز شریف شہروں اور عوام کی تذلیل کر رہے ہیں اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنے غیر مناسب رویے پر میرپورخاص کے عوام سے معذرت کریں۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام مسلم لیگ (ن) کی مبینہ سندھ دشمن سوچ کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام بھی سیاسی نعروں کے بجائے عملی کارکردگی کو ترجیح دیں گے۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہر کشمیری کو برابری کے حقوق، عزت اور مواقع فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کشمیری عوام کے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کی بات کر رہے ہیں، اور یہ عوامی حقوق کا مطالبہ ہے۔ شازیہ مری نے مسلم لیگ (ن) کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی اتحادیوں پر تنقید کے بجائے کشمیر کے لیے اپنا عملی لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام اب صرف وعدوں پر نہیں بلکہ عملی سیاست پر یقین رکھتی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کشمیری عوام کے حقوق، مساوات اور بااختیار مستقبل کی سیاست جاری رکھے گی۔



