یوسف رضا گیلانی ٹڈاپ کرپشن کیسز سے باعزت بری
یاد رہے کہ ٹڈاپ اسکینڈل کی تحقیقات 2009 میں شروع ہوئیں

کراچی (ویب ڈیسک): وفاقی انسدادِ بدعنوانی عدالت نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے میگا کرپشن کیسز سے مکمل طور پر بری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق عدالت میں ٹڈاپ کرپشن کیسز کی سماعت کے دوران یوسف رضا گیلانی ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے 14 مقدمات میں گیلانی سمیت تمام شریک ملزمان کو باعزت بری کرنے کا حکم سنا دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کیسز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، اور تمام فریقین کو مکمل سنا گیا۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف قانون دان فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 2013 اور 2014 کے دوران ایف آئی اے نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف 26 مقدمات قائم کیے تھے، جن میں سبسڈی کے نام پر 50 لاکھ روپے لینے کا الزام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مقدمات کی بنیاد صرف ایک شخص کے الزام پر رکھی گئی تھی، اور سابق وزیراعظم کو ایک منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔
فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ گیلانی صاحب 10 مقدمات میں پہلے ہی ضمانت پر تھے، لیکن ایف آئی اے نے انہیں مفرور قرار دیا۔ آج عدالت نے مکمل انصاف کیا اور تمام الزامات کو جھوٹا قرار دے کر بری کر دیا۔
اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان پر جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گئے، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ سچ سامنے آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک نے انتہائی محنت سے مقدمہ لڑا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے یہ مقدمات قائم کیے، وہ آج ان کے سیاسی اتحادی ہیں، تاہم قانون میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ برسوں سے زیر التوا مقدمات بغیر فیصلے کے نہ رہیں۔
یاد رہے کہ ٹڈاپ اسکینڈل کی تحقیقات 2009 میں شروع ہوئیں، جبکہ مقدمات کا باقاعدہ اندراج 2013 میں کیا گیا۔ یوسف رضا گیلانی کو 2015 میں ان مقدمات میں باقاعدہ نامزد کیا گیا تھا۔ وہ اس سے قبل 12 مقدمات میں بری ہو چکے تھے، جبکہ آج کے فیصلے کے بعد تمام 26 مقدمات سے بری ہو چکے ہیں۔



