ہم نے اپنے طور پر بجٹ منظور کرلیا، بانی سے ملاقات ہمارا حق ہے، رکاوٹیں قبول نہیں:علی امین گنڈاپور
علی امین گنڈاپور نے انکشاف کیا کہ انہیں دو دو ماہ تک عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی

راولپنڈی (ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم نے صوبائی بجٹ اپنے طور پر پیش کرکے منظور کرلیا ہے، تاہم پیٹرن انچیف کا آئینی حق ہے کہ بجٹ منظوری سے قبل وہ اپنی رائے دیں، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت نہ آئین کی بالادستی ہے نہ ہی ادارے اپنی اصل روح کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ عدلیہ بھی آزاد نظر نہیں آ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں بھی ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا لیکن ہم نے باقی بچا ہوا مینڈیٹ زور بازو سے محفوظ رکھا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم نے پارٹی کی فہرست میں اپنا نام لکھوایا اور عدالتی احکامات کے مطابق اسمبلی میں آئے، مگر ہمیں ایسے روکا جا رہا ہے جیسے ہم دہشت گرد ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہمارا حق ہے اور یہ ملاقات ہو کر رہے گی، لیکن جس طریقے سے روکا جا رہا ہے وہ آئین اور قانون کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نیا پروگرام آ رہا ہے، ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں، ہم سے سوالات کیے جا رہے ہیں جیسے پاکستان کا ٹھیکہ صرف ہم نے اٹھا رکھا ہو۔ ہمارا لیڈر جیل میں ہے، مقدمے ہم پر، اور فنانس میٹنگ میں ہمیں شامل نہیں کیا جا رہا۔ ہم نے بائیکاٹ کر رکھا ہے کیونکہ ہمارا آئینی حق ہم سے چھینا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج پر ہمیں گولیاں ماری جاتی ہیں، اور یہ سلسلہ کسی بھی حد تک جا چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص انہیں گولیاں مار دے تو وہ کیا کریں، آئین اور دین ان سے کیا تقاضا کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں سی ایم اے داخل کر دی ہے، عدالت عظمیٰ کو بتایا ہے کہ خان صاحب نے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا، اب سوال یہ ہے کہ اس خط پر کیا کارروائی ہوئی۔
علی امین گنڈاپور نے انکشاف کیا کہ انہیں دو دو ماہ تک عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہوم ڈیپارٹمنٹ مریم نواز کے ماتحت ہے، اگر حکومت واقعی ان کی نہیں ہے تو واضح کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ انہیں جیل میں قیدیوں سے ملاقات کا آئینی اختیار حاصل ہے، اور خیبرپختونخوا میں کسی بھی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے ہم ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پورا بجٹ ابھی پاس نہیں ہوا، سیشن جاری ہے، اور تمام ایم پی ایز اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود ہیں جس سے نظام متاثر ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات نہ کروا کر یہ لوگ اپنا ظرف دکھا رہے ہیں، بقول ان کے بے ظرف لوگوں سے واسطہ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی ہدایت نہیں ملی کہ اسمبلی توڑی جائے، بلکہ بانی کا مینڈیٹ ان کے پاس امانت ہے اور اسے ہر حال میں برقرار رکھنا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جو اختیارات دیے ہیں، وہ ان پر تن من دھن سے کام کر رہے ہیں، باقی اللہ کا اختیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بانی کے فیصلے کے پابند ہیں کیونکہ وہی ان کے لیڈر ہیں۔



