پہلگام حملہ: امریکہ نے مبینہ ملوث تنظیم کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا

ماہرین کے مطابق امریکہ کی یہ کارروائی خطے کی سیاسی فضا کو مزید کشیدہ کر سکتی ہے

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکہ نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروہ کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے، جب کہ اس گروہ کو خصوصی طور پر نامزد دہشت گرد فہرست میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف کی ترجمانی کرتا ہے، اور اس کا مقصد حملے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس 22 اپریل کو مقبوضہ وادی کے علاقے بائسارن میں ایک خوفناک حملے کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا اور اسے بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف سخت بیانات دیے گئے۔

ذرائع کے مطابق ابتدا میں ایک غیر معروف گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی، تاہم بعد ازاں اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کی گئی۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ گروہ کالعدم لشکرِ طیبہ سے وابستہ ہے اور دراصل اسی کا نیا چہرہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اس سے قبل بھی لشکرِ طیبہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے، اور اب اس نئے گروہ کو بھی اسی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

یہ تنظیم پہلی مرتبہ سنہ 2020 میں بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے سامنے لائی گئی تھی، جب اُس وقت کے بری فوج کے سربراہ نے پاکستان پر ایک نئی تنظیم بنانے کا الزام لگایا تھا۔ پاکستان نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔

حالیہ دنوں میں ایک معروف بھارتی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر بھارت کے پاس کوئی شواہد ہیں تو پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب بھارتی صحافی نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے اس گروہ کو اقوامِ متحدہ کے ذریعے دہشت گرد قرار دلوانے کی کوشش کی تھی، تاہم چین نے اس کوشش کو روک دیا۔

ماہرین کے مطابق امریکہ کی یہ کارروائی خطے کی سیاسی فضا کو مزید کشیدہ کر سکتی ہے، جب کہ سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے حساس معاملات میں ثبوت اور غیر جانب دار تحقیقات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button