سینیٹ انتخابات کے لیے حکومت و اپوزیشن میں معاہدہ طے پا گیا، 5/6 فارمولے پر اتفاق
11 نشستوں پر متوقع معاہدے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے

پشاور (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا میں آئندہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں 11 نشستوں پر متوقع معاہدے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن کے وفد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے اہم ملاقات کی، جس میں سینیٹ انتخابات سے متعلق حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ ملاقات میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد، مولانا عطا الحق درویش اور سینیٹر طلحہ محمود شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین نے 5/6 فارمولے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت تحریک انصاف کو 6 جبکہ اپوزیشن کو 5 نشستیں دی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے اس معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اپنا ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کرا دیا ہے، جس میں انہوں نے سیاسی مفاہمت کو ترجیح دینے کا عزم ظاہر کیا۔
معاہدے کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے طلحہ محمود، عطا الحق درویش، روبینہ خالد، دلاور خان اور نیاز احمد سینیٹرز منتخب ہوں گے۔ تحریک انصاف کی طرف سے مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی، نور الحق قادری، اعظم سواتی اور روبینہ ناز کے نام سامنے آئے ہیں۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے چند ناراض امیدوار اس فارمولے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارٹی ارکان سے ٹیلیفونک رابطے کیے اور انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی، تاہم بعض رہنما تاحال قائل نہیں ہو سکے۔
صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ تمام 11 نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوں تاکہ ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی کشیدگی سے بچا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ نے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ناراض ارکان سے بات چیت کرے گی۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی صدر جنید اکبر نے طویل غیر حاضری کے بعد شرکت کی۔ اجلاس میں ٹکٹوں کی تقسیم، ناراض امیدواروں اور پارٹی اختلافات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ آج پشاور میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کریں گے۔ ان کے ہمراہ عرفان سلیم، عائشہ بانو، خرم ذیشان، ارشاد حسین اور وقاص اورکزئی بھی موجود ہوں گے، جو پارٹی کی قیادت کو کارکنوں کے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات 21 جولائی کو ہونے جا رہے ہیں، جن میں 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنوکریٹ نشستیں شامل ہیں۔



