ریلوے ٹریک بچھے گا،زمین خزانہ اُگلے گی،پاکستان کی بڑی لاٹری نکل آئی،دشمن کو سانپ سونگھ گیا

1350کلومیٹر ریلوے ٹریک بچھانے کیلئے39کروڑڈالر کی برج فنانسنگ کے معاہدے

ریلوے ٹریک بچھے گا،زمین خزانہ اُگلے گی،پاکستان کی بڑی لاٹری نکل آئی۔کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے ریکوڈک منصوبے کی فنانسنگ سے متعلق معاہدوں اور1350کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک بچھانے کیلئے39کروڑ ڈالر کی برج فنانسنگ کے معاہدے کی منظوری دیدی۔
وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا۔جہاں ای سی سی نے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا جس میں ریکوڈک منصوبے کی فنانسنگ سے متعلق حتمی معاہدوں اور مالی وعدوں کی منظوری طلب کی گئی تھی۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس سے ریکوڈک منصوبے پر کام شروع کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، ای سی سی نے مجوزہ شرائط کی منظوری دے دی اور ہدایت کی کہ اگر کسی بھی مرحلے پر قانونی اور مالی ماہرین کی توثیق کے بعد معاہدوں کی حتمی صورت میں کوئی بڑی تبدیلی ہو تو اسے دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کیا جائے۔
 ای سی سی نے وزارت ریلوے کی سمری پر بھی غور کیا، جس میں ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ساتھ ریل ڈیولپمنٹ ایگریمنٹ اور 390 ملین ڈالر کے برج فنانسنگ ایگریمنٹ کی منظوری طلب کی گئی تھی تاکہ بلوچستان کی کانوں سے برآمدی سامان کی بڑے پیمانے پر ترسیل کے لیے 1350 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جا سکے۔
ای سی سی نے تجویز کی منظوری دیتے ہوئے وزارتِ ریلوے کو ہدایت کی کہ دونوں معاہدوں کی کاپیاں وزارت خزانہ کے ساتھ شیئر کی جائیں تاکہ ان کا تجزیہ کیا جا سکے۔
وزارت ریلوے اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سال مارچ تک منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ ای سی سی میں پیش کریں۔
 وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ای سی سی کی جانب سے دی جانے والی منظوری حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اس تاریخی منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے جو بلوچستان کے معاشی منظرنامے کو بدلنے اور پاکستان کے عوام کے لیے وسیع تر فوائد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button