اعتزاز احسن نے سویلین کے ملٹری ٹرائل سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی

یہ اس نوعیت کی تیسری نظرثانی درخواست ہے

اسلام آباد (ویب ڈیسک): سینئر قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں سویلین کے ملٹری ٹرائل سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظرثانی کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس اہم آئینی معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کے تمام حاضر سروس ججز پر مشتمل فل کورٹ کرے۔

تفصیلات کے مطابق اعتزاز احسن کی جانب سے جمعرات کے روز دائر کردہ اس درخواست میں 7 مئی 2025 کو سنائے گئے اس فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے، جس میں عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو برقرار رکھا گیا تھا۔

درخواست سینئر وکیل سردار لطیف کھوسہ کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ معاملے کی سنگینی، بنیادی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزی اور اہم آئینی سوالات کے تناظر میں اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو سونپی جائے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہو سکیں۔

یہ اس نوعیت کی تیسری نظرثانی درخواست ہے۔ اس سے قبل سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار ایسوسی ایشن بھی سپریم کورٹ سے اسی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کر چکے ہیں۔

تمام درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کی اجازت دینا ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا، جس کے باعث انتظامیہ کو عدالتی اختیارات تفویض کرنے کا دروازہ کھل جائے گا۔ اس سے ریاستی اختیارات کے توازن میں سنگین خلل پیدا ہوگا اور فوجداری نظام انصاف پر عوام کا اعتماد متاثر ہوگا۔

اعتزاز احسن نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو عوامی اہمیت کے وسیع تر آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے، اور براہ راست شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزاد عدلیہ تک رسائی جیسے اصولوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ معاملہ مختلف صوبوں میں زیر بحث ہے، اس لیے صرف ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار پر انحصار انصاف میں تاخیر کا باعث بنے گا۔ ایسے سنگین اور اہم معاملے میں تاخیر کسی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ فل کورٹ تشکیل دے کر اس آئینی سوال کو فوری اور جامع انداز میں نمٹایا جائے تاکہ مستقبل میں عدالتی اختیار کے دائرے اور شہری آزادیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button