ملک بھر میں یکم جولائی سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ
نیپرا میں باضابطہ درخواست جمع

اسلام آباد (ویب ڈیسک): وفاقی حکومت نے ملک بھر میں یکم جولائی سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں فی یونٹ بجلی 1 روپے 15 پیسے سستی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ کمی لائف لائن کیٹیگری کے علاوہ تمام گھریلو، کمرشل، صنعتی اور زرعی صارفین پر لاگو ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ لائف لائن صارفین، جو 50 سے 100 یونٹس ماہانہ بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کے نرخ برقرار رکھے جائیں، کیونکہ ان صارفین کو پہلے ہی حکومت کی جانب سے بڑی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ نیپرا نے اس درخواست پر غور کے لیے یکم جولائی کو عوامی سماعت طے کی ہے، جس کے بعد نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یکم جولائی سے جن صارفین کا بجلی کا استعمال 50 یونٹس ماہانہ تک ہے، ان کے لیے نرخ 3 روپے 95 پیسے فی یونٹ برقرار رہیں گے۔ 50 سے 100 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے قیمت 7 روپے 74 پیسے فی یونٹ رکھی گئی ہے۔ دیگر تمام صارفین کے لیے، جن میں پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں شامل ہیں، نرخوں میں 3 سے 10 فیصد تک کمی کی جائے گی۔
مثال کے طور پر، 100 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے موجودہ ریٹ 11 روپے 69 پیسے فی یونٹ ہے، جو کم ہو کر 10 روپے 54 پیسے ہو جائے گا۔ اسی طرح، 101 سے 200 یونٹس استعمال کرنے والوں کے لیے قیمت 14 روپے 16 پیسے سے کم ہو کر 13 روپے 01 پیسہ فی یونٹ کر دی جائے گی۔ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 200 یونٹس سے زائد استعمال پر بھی نرخوں میں معمولی کمی کی گئی ہے، جس کے تحت ابتدائی 100 یونٹس کا ریٹ 23 روپے 59 پیسے سے گھٹا کر 23 روپے 44 پیسے فی یونٹ کر دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی صنعتی، کمرشل، زرعی اور بلک صارفین کے لیے بھی فی یونٹ 1 روپے 15 پیسے کی کمی تجویز کی گئی ہے، جس سے قیمتوں میں 3 سے 4 فیصد تک کمی متوقع ہے۔ ان اقدامات کے بعد ملک بھر میں بجلی کا اوسط نرخ کم ہو کر 31 روپے 60 پیسے فی یونٹ رہ جائے گا، جو اس وقت تقریباً 32 روپے 75 پیسے فی یونٹ ہے۔
یہ فیصلہ نیپرا کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی ضروریات، بجلی کی خریداری کی لاگت اور بجٹ میں دی جانے والی سبسڈی میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ نیپرا نے اس سال کے لیے اوسط قومی نرخ 34 روپے فی یونٹ مقرر کیا ہے، جو گزشتہ سال کے 35 روپے 50 پیسے فی یونٹ سے قدرے کم ہے۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق بجٹ میں بجلی پر دی جانے والی مجموعی سبسڈی میں 12.9 فیصد کمی کی گئی ہے، جو مالی سال 2024-25 میں 1.19 کھرب روپے سے کم ہو کر 1.04 کھرب روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح، مختلف مدات میں سبسڈی کی رقم میں بھی واضح کمی کی گئی ہے۔ کے الیکٹرک کے لیے سبسڈی 174 ارب روپے سے کم ہو کر 125 ارب روپے، آزاد جموں و کشمیر کے لیے 108 ارب روپے سے گھٹ کر 74 ارب روپے، جبکہ سابقہ فاٹا اور ضم شدہ اضلاع کے لیے سبسڈی 65 ارب روپے سے کم ہو کر 40 ارب روپے کر دی گئی ہے۔
پنجاب اور بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویل صارفین کے لیے بھی سبسڈی میں کمی کی گئی ہے، جہاں بلوچستان کے صارفین کے لیے رقم 9.5 ارب سے گھٹ کر 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد بجلی کی قیمتوں کو معقول سطح پر لانا، سبسڈی کا درست استعمال یقینی بنانا اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔



