مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کا حق تھا مگر ان نشستوں کی بندر بانٹ کی گئی: حافظ نعیم
حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی میں عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی

لاہور (ویب ڈیسک): جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے سپریم کورٹ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس میں دیے گئے فیصلے کو عدالتی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا شرمناک فیصلہ انصاف کے قتل کے مترادف ہے، ان نشستوں پر تحریک انصاف کا واضح حق تھا لیکن بندربانٹ کر کے منصفانہ حق تلفی کی گئی۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا، جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی نشستوں پر دھاندلی کے ذریعے قبضہ کیا گیا، مجھے ایک نشست پر کامیاب قرار دیا گیا لیکن اصولی مؤقف اپناتے ہوئے میں نے وہ سیٹ واپس کر دی۔
حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی میں عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی، میں خود چند ووٹوں سے ہارا لیکن ایک جعلی اور مسلط کردہ میئر کو عوام پر تھوپ دیا گیا، عام انتخابات میں بھی جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی نشستیں چھینی گئیں۔
انہوں نے تحریک انصاف کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کے 32 یوسی چیئرمینز نے ہماری بجائے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا، پہلے کہا گیا کہ دباؤ تھا لیکن اب وہی ارکان کھل کر کہہ رہے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں، تو پھر تحریک انصاف بتائے کہ اس انحراف پر اپنی پارٹی کے ان ارکان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟
انہوں نے کہا کہ آج عدالتی فیصلے سے نہ صرف انصاف مجروح ہوا بلکہ عوام کا اعتماد بھی عدالتی نظام پر متزلزل ہوا ہے۔ جماعت اسلامی اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے اور سیاسی و قانونی سطح پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔



