غزہ میں امدادی مراکز کے قریب اسرائیلی حملوں میں 549 فلسطینی شہید
ہزاروں زخمی

غزہ (ویب ڈیسک): غزہ میں امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ امدادی مراکز کے قریب خوراک حاصل کرنے کی کوشش کے دوران اب تک کم از کم 549 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی حکومتی میڈیا دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے آغاز سے اب تک امداد کے حصول کی کوششوں کے دوران 4066 افراد زخمی جبکہ 39 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔
بیان میں ان حملوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امدادی مراکز پر بھوکے فلسطینی شہریوں کو خوراک کے نام پر بلایا جاتا ہے اور پھر انہیں منظم انداز میں گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل خوراک کو اجتماعی قتل کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور جو امداد کہی جا رہی ہے، وہ دراصل تباہی اور غلبے کا ذریعہ بن چکی ہے۔
غزہ حکومت نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اسرائیلی مظالم کو بند کرانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امدادی مراکز پر ہونے والے حملوں میں زیادہ تر واقعات میں بچے بھی متاثرین میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 19 جان لیوا حملوں میں سے 10 حملوں میں بچے شہید یا زخمی ہوئے۔
سیو دی چلڈرن کے مطابق غزہ کے کئی خاندان غربت اور قحط کے باعث اپنے بچوں کو خوراک لینے کے لیے بھیجنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جہاں وہ اسرائیلی حملوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ انسانیت کے تمام اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
تنظیم کے ریجنل ڈائریکٹر احمد الہنداوی نے کہا کہ اب لوگ ان امدادی مراکز کو موت کے پروانے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ ان کے خاندان کے پاس صرف ایک وقت کا کھانا بچا ہے لیکن وہ پھر بھی جی ایچ ایف کے مرکز نہیں جائیں گے کیونکہ ان کے نزدیک ان کی جان آٹے کے تھیلے سے زیادہ قیمتی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق 27 مئی سے اب تک ان مراکز یا ان کے اطراف میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 500 سے زائد فلسطینی شہید اور کم از کم 3000 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ میں جاری یہ انسانی بحران دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے، جہاں عالمی سطح پر امدادی سرگرمیوں کے پردے میں فلسطینی شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔



