سوات سانحہ: تاخیر اور غفلت پر ڈپٹی کمشنر سوات معطل
ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد کے مطابق سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 10 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں

سوات (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا حکومت نے دریائے سوات میں حالیہ سیلابی صورتحال کے دوران ریسکیو آپریشن میں تاخیر اور غفلت برتنے پر ڈپٹی کمشنر سوات کو معطل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے اس سے قبل دو اسسٹنٹ کمشنرز، ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ریسکیو کے ضلعی انچارج کو بھی معطل کر دیا تھا۔
دوسری جانب ریسکیو 1122 کی جانب سے سوات کے متاثرہ علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد کے مطابق سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 10 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جب کہ تین افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔
شاہ فہد کا کہنا ہے کہ سوات کے مختلف علاقوں خوازہ خیلہ، کبل بائی پاس اور بریکوٹ میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں ریسکیو 1122 کے 120 سے زائد اہلکار سرگرم عمل ہیں۔ ڈوبنے والے افراد کی تلاش میں سوات، ملاکنڈ اور شانگلہ سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات میں سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں سات مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے تھے۔ اب تک 55 سے زائد افراد کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔



