امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی قرارداد مسترد

ایوان کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کوشش کو ناکام بنایا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان نے بھاری اکثریت سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ قرارداد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے لیے کانگریس سے اجازت نہ لینے پر پیش کی گئی تھی۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مواخذے کی یہ قرارداد ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ایل گرین کی جانب سے پیش کی گئی۔ اس قرارداد پر ایوان میں محدود بحث ہوئی اور خود ڈیموکریٹ جماعت کے اندر بھی اس پر اختلاف سامنے آیا۔ کئی ڈیموکریٹس نے ریپبلکن اراکین کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

ایوان میں ووٹنگ کے دوران 344 اراکین نے قرارداد مؤخر کرنے کے حق میں جبکہ 79 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایوان کی اکثریت بشمول کئی ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

قرارداد پیش کرنے سے قبل خطاب کرتے ہوئے ایل گرین نے کہا کہ امریکا اس وقت جمہوریت اور آمریت کے سنگم پر کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک فرد کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر پورے ملک کو جنگ میں دھکیل دے۔

ایل گرین نے مزید کہا کہ میرے نزدیک آئین یا تو بامعنی ہے یا بےمعنی۔ اسی لیے میں یہ قدم اٹھا رہا ہوں تاکہ صدارتی اختیارات پر حدود قائم کی جا سکیں۔

واضح رہے کہ امریکی فوج نے 22 جون کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے تحت ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کارروائی کے بعد کانگریس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا اس قسم کے حملے کے لیے قانون ساز ادارے سے منظوری لینا ضروری تھی یا نہیں۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق اس آپریشن میں ایران کے دو مقامات پر 14 جی بی یو 57 بم گرائے گئے جبکہ اصفہان میں واقع تنصیب پر بحیرہ عرب میں موجود آبدوزوں سے دو درجن سے زائد ٹاما ہاک کروز میزائل داغے گئے۔

جنرل کین نے بتایا کہ اس کارروائی میں 7 بی ٹو بمبار طیاروں سمیت کل 145 امریکی جنگی طیارے اور آبدوزیں شامل تھیں۔ یہ آپریشن ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button